سکردو(ٹی این این تجزیاتی رپورٹ)گزشتہ دنوں مجلس وحدت المسلمین کے زیر اہتمام سکردو بلتستان میں ایک سیمینار منعقد کیا گیا۔ سیمینار کا موضوع کثیرالجہتی اور معنی خیز معلوم ہوتا تھا۔ ڈیل آف دی سنچری کے عنوان سے مکمل مذہبی رجحان رکھنے والی سیاسی جماعت کی طرف سے سیمینار رکھنے پر کچھ لوگ بے چین بھی نظر آئے اور “ڈیل آف دی سنچری” کو اپنی اپنی سوچ کے مطابق موضوع بحث بناتے ہوئے تنقیدی پہلو کو نسبتاً زیادہ سامنے رکھاگیا۔ جس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ سیمینار کے اشتہار میں ڈیل آف دی سنچری کے عنوان میں ابہام کے ساتھ ساتھ واضح مقصد سمجھ میں نہ آنا بھی ہے۔
سربراہ مجلس وحدت المسلمین پاکستان علامہ راجہ ناصر عباس جعفری اس سمینار کے روح رواں تھے ۔ لگتا ایسا ہے کہ راجہ صاحب نے بھی متنازعہ خطے میں پہل کرتے ہوئے سیاسی طبل بجایا اور اپنی جماعت کی علاقے میں انٹرسٹ کو ظاہر کیا۔
بہر حال یہاں پر ہمارا مقصد مجلس وحدت المسلمین کے زیر اہتمام ایک پیچیدہ اور با آسانی سمجھ میں نہ آنے والے موضوع پر سیمینار رکھنا ہی ہے۔ کیونکہ سیمینار کے موضوع میں پنہاں معنی عوامی نوعیت کا ہرگز نہیں ہے بلکہ اشرافیہ اور مقتدر حلقوں کو پیغام دینے کی کوشش زیادہ نظر آرہی ہے۔ ایک مذہبی سیاسی جماعت کی طرف سے اس طرح کے پیچیدہ موضوع کو زیر بحث لانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس جماعت کے کارکن اورسیاسی مشیران گلگت بلتستان کے جغرافیائی حالات اور اہمیت سے خوب واقف ہیں۔ اور اپنی جماعت کے فورم کو بھرپور طریقے سےاستعمال کرنے کے بھی خواہاں ہیں۔ سیمینار کے عنوان میں موجود پیچیدہ معنیٰ کو گلگت بلتستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ دیگر سیاسی جماعتوں مثلاً پی پی پی، پی ایم ایل این، پی ٹی آئی اور آئی ٹی پی کی نسبت صاف اور واضح دکھائی دیتا ہے کہ یہ جماعت یہاں کے معاملات کو ایڈریس کرنے کی حد المقدور کوشش کررہی ہے۔ زیر بحث عنوان کے بارے میں کچھ مفصل بیان تو اس پلیٹ فارم کے کرتا دھرتا ہی واضح طور پر کرسکتے ہیں لیکن ہم صرف ابہام کی وجہ سے پس منظر میں جاکر قیاس کرسکتے ہیں کہ آخر کار عوامی سوچ و فکر کو ترغیب دلانے والے موقف کے بجائے اسٹیبلشمنٹ کو ہوشیار کرنے والے پیچیدہ موضع کو ہی کیوں چنا گیا۔
1-ہوسکتا ہے کہ ایم ڈبیلو ایم کے قائدین کی سوچ اس علاقے کے دیرینہ مسائل بارے توجہ ارباب اختیار کا دلانا ہو اور اپنی جماعت کو اس علاقے کی ابھرتی ہوئی عوامی پذیرائی والی جماعت کے طور پر اسٹیبلشمنٹ کے ذہنوں میں درج کرانا ہوں.
2-یہ کہ ہوسکتا ہے کہ وحدت المسلمین، پاکستان اور عالمی طاقتوں کو باور کرانا چاہتی ہوں کہ اس علاقے میں اس جماعت کی اچھی خاصی اثر رسوخ ہیں اس لئے اس ریجن کے بارے میں فیصلہ کرتے ہوئے ہمیں ہی بحیثیت سٹیک ہولڈر شمار کیا جائے.
3- یہبھی ہوسکتا ہے کہ ایم ڈبیلو ایم کے قائدین اس ریجن میں سب سے زیادہ تباہی کے ذمہ دار ایشو مسئلہ کشمیر کے بارے میں بڑی ڈیل کیلئے راہ ہموار کرنے کی کوششوں پر یقین رکھتے ہوں.
4- یہ کہ ہوسکتا ہے کہ وحدت کے قائدین سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کےنتیجے میں عبوریت کا چپٹر بند ہونے پر گلگت بلتستان اور پاکستان کے اسٹیبلشمنٹ کے درمیان نئے سرے سے مفادات کے تعین کے لیے بڑی ڈیل دیکھ رہے ہوں. جس کیلئے راہ ہموار کی جارہی ہوں.
4- یہبھی ہوسکتا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کےنتیجے میں عبوریت کاکھاتہ مکمل طور پر بند ہونے پربند ہونے پر گلگت بلتستان اور پاکستان کے اسٹیبلشمنٹ کے درمیان نئے سرے سے مفادات کے تعین کے لیے بڑی ڈیل دیکھ رہے ہوں. جس کیلئے راہ ہموار کی جارہی ہو۔
5- یہبھی ہوسکتا ہے کہ ایم ڈبیلو ایم کے قائدین نے امکانی سیاسی پاور میں فیصلہ کن اختیار نہ ملنے کے اندیشہ کے پیش نظر صرف بارگیننگ پارٹی کو طور پر بڑی ڈیل کیلئے گلگت بلتستان میں یہ طبل بجایا ہو.
6- یہبھی ہوسکتا ہے کہ ماقبل کے علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کے تقریروں کے ضمن میں اس علاقے کی پوزیشن سی پیک کی وجہ سے کافی اہمیت اختیار کر گیا ہے اس لیے یہاں کے باسیوں کو ہوش کا ناخن لیتے ہوئے اپنے علاقے کے سکیورٹی اور معاشی مسائل کو ڈھیل کے بجائے ڈیل کے ذریعے حل کرنے کا مشورہ دے رہے ہوں.
7- یہ بھی ہوسکتا ہے کہ راجہ ناصر عباس جعفری دریاؤں کی ریالٹی کے بابت پاکستان کے ذمہ داروں کے ساتھ ایک جامع ڈیل کےلئے گلگت بلتستان کے عوام کو آمادہ کرنے کی کوشش کررہا ہو۔
8- یہبھی ہوسکتا ہےکہ سکردو کارگل روڈ کھولنے کا فیصلہ ایک ڈیل کے ذریعے ہی ممکن ہے جس کے لئے گلگت بلتستان کے عوام کو پاکستانی حکام سے ڈیل کرنے کا مشورہ دے رہے ہو.
9- یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وحدت کے قائدین گلگت بلتستان کے معدنی ذخائر کی تلاش پاکستان کے معاشی مشکلات کو حل کرنے کے لیے استعمال کرنے پر یقین رکھتے ہوں جس کیلئے ڈیل کو گلگت بلتستان کے مفادات کے تحفظ کے لئے لازمی سمجھتے ہوں.
10- یہبھی ہوسکتا ہے کہ وحدت کے قائدین آنے والے الیکشن میں مذہبی کارڈز کو استعمال کرتے ہوئے اپنے جماعت کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ کو ڈیل کےلئے آمادہ کرنے کی کوشش میں مصروف ہوں.
11- یہ کہ ہوسکتا کہ وحدت کے قائدین گلگت بلتستان کو چائنا، ایران، سعودی اور انڈیا کے پراکسی وار کے مرکز کے طور پر دیکھ رہے ہوں. اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے سامنے بطور سٹیک ہولڈر پراکسی وار کیلئے آمادگی کو ڈیل آف دی سنچری سمجھتا ہو.
12- یہ بھیہوسکتا ہے کہ راجہ ناصر عباس جعفری صاحب بھی اسٹیبلشمنٹ کے گڈ بک کو ہی سیاسی کامیابی کا زینہ سمجھتے ہوں جس کیلئے پاکستان بھر میں لاپتہ کئے گئے شیعہ افراد کے حق میں نکالی گئی جماعت کی ریلیوں اور ذمہ دار اداروں کـے خلاف کی گئی تقریروں کو پس پشت ڈال کر ایک نئی ڈیل کیلئے آمادگی ظاہر کررہے ہوں.
13- یہبھی ہوسکتا ہے کہ الیکشن میں اسٹیبلشمنٹ کے گھناؤنے کردار کو جیت کیلئے مسلمہ تصویر کرتے ہوئے بلتستان ریجن میں وحدت المسلمین کے لیے حصے کے تعین کو ڈیل کے ذریعے انجام تک پہنچانے کے خواہاں ہوں.
14- یہبھی ہوسکتا ہے کہ مشرقی وسطیٰ میں ایران کی پراکسی وار میں ایم ڈبیلو ایم کی دلچسپی کو پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے سامنے قابل قبول موقف کے طور پر جگہ بنانے کی کوشش میں مصروف ہوں جس کیلئے ڈیل درکار ہو۔
15- یہبھی ہوسکتا ہے کہ ایم ڈبیلو ایم کے قائد علامہ راجہ محمد ناصر عباس جعفری صاحب حکومت پاکستان کوعبوریت کا راستہ ہموار کرنے کیلئے کشمیری کٹھ پتلی شیخ عبداللہ کی طرز پر موقف اپنانے کی صورت میں مجلس وحدت کیلئے بھی گلگت بلتستان میں اقتدار کی راہ ہموار کرنے کے لئے ڈیل کو ہی ضروری سمجھتے ہوں.
16- یہبھی چونکہ دیگر سیاسی جماعتوں نے اپنے مفادات کا محور اقتدار کے حصول کو ہی قرار دیا ہے اور عوامی مفادات سے یکسر منحرف ہوکر نوکر شاہی کے قصیدہ گوئی کو ہی بقاء کیلئے لازمی قرار دیا ہے. ایسے وقت میں مجلس کی جانب سے ایک معنی خیز عنوان کوسامنے لانا کسی چیلنج سے کم نہیں ہے. اس لئیے کیا مجلس کے قائدین اپنی سیاسی وجودکوعوامی موقف پر قائم رکھ سکے گی یا اسٹیبلشمنٹ کے پروردہ ہونا قبول کرے گی.
یہ چند سطور صرف علاقے کے سلگتے مسائل ہونے کی وجہ سے ڈیل آف دی سنچری کے عنوان میں موجود ابہام پر قیاس کیا گیا ہے. البتہ عنوان کا اصل مقصد و مراد کے بارے میں درست موقف مجلس وحدت المسلمین کے قائدین ہی بیان کرسکتے ہیں.
ڈیل اف دی سنچری کی حقیقت کیا ہے؟ تحریر نیوز ٹیم کا تجزیہ
More Stories
عوامی نمائندے سٹیٹ سبجیکٹ رول سے خائف کیوں۔۔؟ٖٖ
پاکستانی میڈیا کی نظروں سے اوجھل گلگت بلتستان کے سلگتے مسائل اور بھارتی میڈیا
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی