گلگت(پ ر)پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کی صوبائی سیکریٹری اطلاعات سعدیہ دانش نے 5 جولائی یوم سیاہ کے حوالے سے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ 5 جولائی ملکی تاریخ کاالمناک دن ہےاس دن جمہوریت کی بساط لپیٹ دی گئی تھی ۔مارشل لاء آگیا تھا اورجنرل ضیا الحق طویل مارشل لاء لگا کر پاکستانی سماج کو جڑوں سے ہلا کر رکھ دیا تھا ۔یہ دور منافقت کی طویل دہائی تھی.اسی دن اس آمر نے شب خون مارا اور آج بھی کہیں نہ کہیں ضیاءالحق کی باقیات موجود ہے جو جمہوریت کیلئے خطرہ ہے۔سعدیہ دانش نے کہا کہ موجودہ حکومت نے غریب عوام کا سب کچھ چھین لیا ہے اور ہر طبقے کا معاشی قتل کیا جارہا ہے بلکہ وفاقی حکومت عوام کی معاشی قاتل ہے۔انہوں نے مزید کہا ہے کہ آج کا جمہوری نظام بھٹو شہید کا قوم کو تحفہ ہے۔ بٹھو شہیدنے نہ صرف جمہوری سیاست کی بنیاد رکھی بلکہ اسے ایک قابل تقلید ، قابل عمل اور شاندار نظام بنا دیا۔سعدیہ دانش کا مزید کہنا ہے کہ جنرل ضیا ء الحق کا یہ اقدام وحشیانہ، ظالمانہ اورجارحانہ تھا جس نے بڑی جدوجہد کے بعد قائم کردہ جہوری حکومت کو ختم کر کے پاکستانی قوم کی امیدوں پر پانی پھیر دیا تھا اور تاریخ میں ملک وقوم کو اندھیرے میں ڈال دیا، اس حوالے سے قوم اس دن کو ہمیشہ یوم سیاہ کے حوالے سے مناتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو ایک قومی لیڈر ، دوراندیش، زیرک سیاستدان، مدبر راہنما اور کرشمہ ساز شخصیت تھے، انھوں نے سیاست کو سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے ڈرائنگ رومز سے نکال کر غریبوں اور محروموں کی دہلیز پر لا کھڑا کیا،ضیاء الحق اسلام کا نام لیوا تھا مگر اس آمر کا اسلام سے کچھ لینا دینا نہیں تھا بلکہ بیرونی اور استعماری قوتوں کے ایجنڈے کی تکمیل بنام اسلام اس کا مشن تھا اور اس مشن کی تکمیل کے لیے ضروری تھا کہ آمر مطلق کا اقتدار اور ناجائز قبضہ طویل عرصہ کے لیے قائم رہے۔سعدیہ دانش نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ میں مسلمہ حقیقت اور تاریخی حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ بھٹو ایک سوچ ، ایک نظریہ بن چکا ہے جسے تبدیل نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی کوئی کر سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت ایک فلاپ حکومت ہے اور زیادہ دیر تک بھی نہیں چلے گی۔
5 جولائی کے دن کے حوالے سے پی پی پی کے سیکرٹری اطلاعات گلگت بلتستان نے سخت انکشافات کردیا
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا