شگر(ٹی این این) شگر حشوپی باغ میں دو روزہ کسان ٹرینینگ ورکشاپ کے اختتامی پر وقار تقریب کا اہتمام کیا تھا جس کے سپیشل گیسٹ ریاض علی صاحب ڈائریکٹر زراعت بلتستان ریجن، برکت علی ریجنل کو آرڈینیٹر ای ٹی آئی پروجیکٹ تھے جبکہ گیسٹ آف آنر جناب زید صاحب ڈپٹی کمشنر شگر تھے۔ اس کسان ورکشاپ میں کل 38 زمیندار شریک ہوئے جنہیں مہمانان نے کامیاب ٹرینینگ کی تکمیل پر سرٹیفکیٹ تقسیم کئے۔ تقریب سے مقامی زمینداروں کے نمائندے محمد اسلم نے خطاب میں محکمہ کے اس مفید سیشن کو سراہا اور ای ٹی آئی کے کاموں کو بھی سراہا جس میں اس سال ضلع شگر میں 23 کمرشل آرچرڈز بنائے گئے ہیں، 55 زمیندار ورٹیکل فارمینگ پر کام کررہے ہیں اور پرائیوٹ سیکٹر میں تین نرسریاں بھی قائم کی ہیں اسکے علاوہ 155 زمینداروں نے آلو کے ترقی دادہ بیج اگائے ہیں۔ اسکے علاوہ کسانوں کے نمائندے نے ڈی سی شگر صاحب سے مطالبہ کیا کہ شگر چونکہ خوبانی کے لئے مشہور ہے لہذا ہر سال ڈسٹرکٹ انتطامیہ اور محکمہ زراعت شگر میں اپریکاٹ فیسٹول کا انعقاد کرے, جسے عزت مآب ڈی سی صاحب شگر اور ڈائریکٹر زراعت نے منظور کرتے ہوئے اپریکاٹ فیسول کی تیاریوں اور انعقاد کے سلسلے میں ڈی ڈی زراعت شگر کو گو ہیڈ دیا ہے اور دیگر لائن ڈیپارٹمنٹس سے مل کر مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔ اسکے علاوہ ای ٹی آئی کے ریجنل کوآرڈینیٹر جناب برکت علی صاحب نے بھی اس سلسلے میں ممکنہ تعاون کی پیشکس کی ہے۔ آپ نے مذید فرمایا کہ اب یہ پروجیکٹ گلگت بلتستان کے دس اضلاع بشمول شگر ایکسٹینڈ ہوگیا ہے اور آنے والے وقتوں میں فارم ٹو مارکیٹ روڈز، بنجر زمینوں کی آباد کاری اور کمرشل زراعت پر شگر میں بھی کام کیا جائے گا جسکے لئے شرائط و ضوابط کے تحت کسان تنظیمات فائدہ اٹھائیں۔ جناب ڈی سی شگر صاحب نے شگر محکمہ زراعت کی کارکردگی کو مثالی قرار دیا اور کہا کہ یہ ماڈل دوسرے ضلعوں کے لئے رپلیکیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ جناب ڈائریکٹر زراعت بلتستان نے ٹرینیگ کے شرکاء سے کہا کہ آپ لوگ اپنی مدد آپ کریں، محکمے صرف راستہ دکھاتے ہیں مگر کام آپ نے خود کرنا ہے، اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے والے قوم ہی باعزت مقام حاصل کرتے ہیں۔ تھکے اور پژمردہ دلوں میں روح پھونکنے کے لئے جناب شاعر شمال احسان علی دانش صاحب نے اشعار اور نظمیں سنائیں اور کسانوں کو تارے قرار دئے۔ ڈی ڈی زراعت شگر جناب جی ایم ثاقب نے محکمہ اور سٹاف کی طرفسے خطبہ اسقبالیہ میں تمام مہمانوں کی آمد پر شکریہ ادا کیا۔
کسانوں کی مطالبے پر ڈپٹی کمشنر نے بڑا فیصلہ کردیا ڈی ڈی زراعت کو اہم زمہ داری دے دی
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا