سکردو(ٹی این این )محکمہ ایجوکیشن بلتستان کے 287 ٹیچرز کی ذاتی سماعت سیاسی دباؤ پر ملتوی ہونے کے قوی امکانات ہیں اور کرپٹ مافیا ایک دفعہ پھر شطرنج کی بازی جیتنے کےلئے کمربستہ ہیں۔ یہی وہ سیاسی نمائندے ہیں جو عوام کے ووٹ سے جیت کر آجاتے ہیں اور ان کے منشور میں پہلی ترجیح عوام کے حقوق کا تحفظ اور محروم طبقے کو انصاف دلانے ہوتاہے مگر یہ لوگ الیکشن جیت جانے کے بعد کرپٹ مافیا کے ساتھ مل کر اپنے ذاتی مفادات حاصل کرتے ہیں اور ان سیاسی نمائندے اپنے من پسندوں ملازمین کو ان کی پسند کے اسٹیشن پر تبادلہ کرانے اور مخالفین کو دور دراز علاقوں میں تبادلہ کر کے سیاسی انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا جانا ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہوتاہے اوراب انہی سیاسی نمائندوں کی پشت پناہی پر محکمہ ایجوکیشن سے شفافیت کے خاتمے اور ٹیچرز اور ایڈمنیسٹریل سٹاف کی شفاف سنیارٹی کی امید ناامیدی میں بدل جانے کے بعد ہمیشہ کے لئے فیاض کی فیاضی اور ہر آواز حق بلند کرنے والے پر شمشیر کے شمشیری وار کر کے انہیں منہ بند رکھنے پر مجبور کئے جائیں گےاور یوں حقداروں کے منہ پر تالے لگ جائنگے۔ اب سوائے خالق کل کائنات کی لاٹھی ہی ان لوگوں کو انہیں اپنے انجام تک پہنچائے گی کیونکہ اللہ رب العزت کے ہاں دیر ضرور ہے مگر اندھیر نہیں انشاء اللہ اندھیر نگری چوپٹ راج کے خاتمے کا انجام بہت جلد دیکھیں گے۔ اللہ کو نہ ظلم پسند ہے اور نہ ہی ظالم کےلئے کوئی معافی ہے۔
محکمہ تعلیم سکردو میں کرپٹ مافیا نے ایک دفعہ پھر سر اٹھا لیا
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا