کھرمنگ(ٹی این این)ضلع کھرمنگ میں پھلوں کا موسم شروع ہوتے ہی سنڈیوں نے خوبانی ،سیب اور دیگر پھلدار درختوں پر حملہ کردیا۔ ایک طرف حکومت پاکستان عوام میں جنگلات اور درختوں کی ضرورت و افادیت کو اجاگر کی جارہی ہے تاکہ جنگلات اور درختوں کی لکڑی کے ساتھ ساتھ ڈرائی فروٹ کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہوسکے۔اس مقصد کے پیش نظر ایک طرف گرین پاکستان پروجیکٹ کے تحت درختوں میں اضافے کے خاطر اربوں روپے خرچ کیے جارہیں تو دوسری طرف پہلے سے موجود درختوں پر ایک خاص قسم کی سنڈیوں کی افزائش تیزی سے بڑھ رہی ہے خاص طور پر پھل درختوں پر۔یہ سنڈیاں درختوں کے پتے کھاتے ہیں اور پھل پکنے سے پہلے پہلے خراب کردیتا ہےاس کے ساتھ ساتھ یہ سنڈیاں انسانوں کیلے بھی خطرناک ثابت ہورہے ہیں۔ اس وقت ضلع کھرمنگ کے گیمل، منٹھوکھا،منٹھونالہ، گوریق سمیت کئ گاوں میں یہ سنڈیاں تیزی پھیل رہی ہے جس کی وجہ سے پھل دار درختوں کو بے تحاشہ نقصان پہنچا رہے ہیں لیکن محکمہ زراعت اس حوالے سے مکمل طور پر لاعلم نظر آتا ہے یا ادارے کو اپنی ذمہ داریوں کا احسا س نہیں۔ حکومت کی جانب سے سنڈیوں کے حملے کو روکنے کیلئے اقدامات نہیں اُٹھایا تواس بیماری سے کسانوں کے زرائع آمدن متاثر اور معاشی بدحالی کاشکار ہوسکتا ہے۔ علاقے کے کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ گرین پاکستان کے نام سے اربوں روپے بانٹنے والوں اور محکمہ زراعت ضلع کھرمنگ اس اہم مسلے کی طرف توجہ دیں اور پھلوں کو بچانے کیلئے اقدامات کریں۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا