مبصری نہیں کشمیر طرز کے ایکٹ کے ذریعے گلگت بلتستان کی محرومیوں کا ازالہ چاہئے۔مولانا سلطان رئیس

0 0

گلگت(ٹی این این) گلگت بلتستان کے محکموں میں درجنوں یو ٹی آفیسرز قومی بجٹ پر بوجھ ہیں وفاق سے ہر رنگروٹ کو گلگت بلتستان بھجوایا جاتا ہے اور گلگت بلتستان میں وی آئی پی پروٹوکول دیا جاتا ہے جس سے نہ صرف قومی بجٹ کا ضیاع ہے بلکہ گلگت بلتستان کے لوکل ملازمین کا استحصال ہے۔ان خیالات کا اظہار مولانا سلطان رئیس چئیرمین عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے بیان میں کیا انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی چاروں صوبوں سے زیادہ یو ٹی آفیسرز کو گلگت بلتستان بھجوایا جاتا ہے اور انکا رویہ گلگت بلتستان کے سینئر آفیسرز کے ساتھ نہایت ہی غیر سنجیدہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے بہت سارے لوکل آفیسرز قبل از وقت ریٹائرمنٹ لینے پر مجبور ہوگئے ہیں۔انہوں نےکہا کہ یہی وہ رویہ ہے جس کی وجہ سے لوگوں میں محرومیاں پیدا ہوتی ہیں لہذا فوری طور پر اس سلسلے کو ترک کیا جائے اور پاور شیئرنگ کے فارمولے پر نظرثانی کی جائے اور کشمیر طرز پر لوکل ملازمین اور گلگت بلتستان کے ڈگری بردار نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیئے جائیں۔انہوں نےکہا کہ کشمیر طرز کے ایکٹ کے ذریعے گلگت بلتستان کے محرومیوں کا ازالہ کیا جاسکتا ہے بشرطیکہ حکمرانوں کی نیتیں درست ہو لیکن ساتھ ہی عبوری اور مبصر کے طور پر گلگت بلتستان کے چند بیروزگاروں کو نواز کر کوئی خیر کا کام نہیں کیا جاسکتا.
انہوں مذید کہاکہ ریاست کے اندر پاور شیئرنگ کا جائز فارمولا جو بھی ہو گلگت بلتستان کے عوام کو تسلیم ہونا چاہئے لیکن اس کے آڑھ میں گلگت بلتستان کے لوکل حقوق کو غصب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی.
انہوں نے کہا سکیورٹی کونسل کے اجلاس میں ہونے والے فیصلوں کو عوامی تحفظات اور امیدوں کے تناظر میں دیکھا جائے جس کیلئے ضروری ہوگا کہ گلگت بلتستان کی آئینی جغرافیائی معاملات کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام سٹیک ہولڈرز کی رائے کو ضرور مدنظر رکھا جائے۔اس سے پہلے بھی وفاقی حکومتوں نے گلگت بلتستان کیلئے جو بھی پیکجزز اور اعلانات کیئے ہیں صرف جماعتی پالیسیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے چند پارٹی کارکنوں کو نواز نے کی کوشش کی گئی ہے. جس کی وجہ سے گلگت بلتستان میں آج وفاقی جماعتوں کا ساکھ بری طرح سے متاثر ہوا ہے۔اس بار ایسے ہر ایک فیصلے کے خلاف مصلحت پسندی سے بالائے طاق ہو کر گلگت بلتستان کے قومی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔اسی مقصد کے تحت عوامی ایکشن کمیٹی قائم ہوئی ہے اور آگے بڑھ کر کام کریں گے.

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website