کراچی(ویب ڈیسک/ٹی این این) نجی ٹی وی نیوز ون کے مطابق کراچی کے قریب بحیرہ عرب میں ساڑھے 5 ہزار میٹرز سے زیادہ گہرائی تک ڈرلنگ کا عمل مکمل ہونے کے باوجود تیل اور گیس کے ذخائر نہیں مل سکے۔میڈیاکے مطابق کیکڑاون کے مقام پر ساڑھے5ہزار میٹرز سے زیادہ گہرائی تک ڈرلنگ کی گئی تاہم ڈرلنگ کرنے والی کمپنیوں کو مطلوبہ گیس کے ذخائر نہیں مل سکے۔
کیکڑاون کے مقام پر اٹلی کی کمپنی ای این آئی، امریکی کمپنی ایگزون موبل ڈرلنگ کا کام کر رہے تھے اور اس پراجیکٹ میں او جی ڈی سی اور پی پی ایل بھی شامل تھے ۔ گیس کے ذخائر کی تلاش کے لیے سمندر میں کی جانے والی ڈرلنگ کے منصوبے پر لاگت کا تخمینہ 10 کروڑ ڈالر کے لگ بھگ رکھا گیا تھا تاہم ڈرلنگ کے بعد کیے گئے ٹیسٹ کے نتائج سے واضح ہوا کہ منصوبے کے مقام پر گیس کے ذخائر موجود نہیں ہیں۔میڈیاکا کہنا ہے کہ ٹیسٹنگ کے نتائج سے متعلق وزیراعظم کوآگاہ کردیاگیا ہے جب کہ ڈرلنگ کمپنیوں نے تلاش روک کر زیر سمندر سوراخ کوبند کرنے کاعمل شروع کردیا ہے۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا