عوامی ایکشن کمیٹی نے چیف کورٹ گلگت بلتستان کی تعیناتی کو کلعدم قرار دینے کا مطالبہ کردیا۔

0 0

گلگت(ٹی این این) عوامی ایکشن کمیٹی کے چیرمین مولانا سلطان رئیس کی قیادت میں دیگر اراکین عوامی ایکشن کمیٹی نے گلگت پریس کلب پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے بڑا مطالبہ کردیا۔ تفصیلات کے مطابق پریس کانفرس میں عوامی ایکشن کمیٹی نے چیف کورٹ گلگت بلتستان تعیناتی کلعدم قرار دینے کا مطالبہ کردیا۔ اُنکا کہنا ہے کہ گلگت میں انصاف کی کرسی پر بٹھا شخص دیامر کے جنگلات کے دعویدار ہے لہذا عدالت اعلیٰ کا اہم ترین منصب پر متناعہ شخص کو بٹھانا گلگت بلتستان کے عوام کی توہین ہے۔ اُنہوں نے مطالبہ کیا کہ چیف کورٹ گلگت بلتستان کیلئے تعیناتی کیلئے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے اور جوڈیشل کمیشن کے تحت چیف کورٹ کی تعیناتی کو یقینی بنائیں۔اُنہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ سپریم اپلیٹ کورٹ میں ججوں کی تعیناتی کیلئے میرٹ کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے گلگت بلتستان کے مقامی سنئیر ججز اور وکلاء کو ترجیح دیں بصورت دیگر وفاق سے کسی بھی جج کی تقرری کی صورت میں حاضر سروس جج کی میرٹ کی بنیاد پر تقرری عمل میں لاکر سفارشی کلچر کو ختم کریں۔
یاد رہے چیف کورٹ کی تعیناتی کیلئے گورنر گلگت بلتستان راجہ جلال حسین مقپون گورننس آرڈر 2018کے آرٹیکل 75(8) اور آرٹیکل75(10)کے تحت سمری بھیجی تھی جسے وزیر اعظیم عمران خان نے منظوری دیکر وزیراعظم آفس سے اعلامیہ جاری کرکے کل گلگت بلتستان ہاوس اسلام آباد میں حلف اُٹھا لیا ہے۔اُنکی تعیناتی کے حوالے سے گلگت بلتستان کے عوامی سیاسی اور وکلاء برداری میں شدید تشویش پایا جاتا ہے وکلاء برداری نے چیف کورٹ کیلئے مقامی جج منتخب کرنے کا مطالبہ کیا تھا جبکہ ضلع دیامر کے عوام اُنکی جانب سے دوڈیشال جنگلات پر دعوے کے حوالے سے سراپا احتجاج ہے۔ عوامی ایکشن کمیٹی نے اُنکی تعیناتی کو غیرجمہوری اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیکر عوام میں جانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ قانون ساز اسمبلی میں متحدہ اپوزیشن اور حکومتی اراکین کی جانب سے اُنکی تعیناتی پر سوال اُٹھایا جارہا ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website