سکردو( تحریر نیوز سروے) آئین پاکستان، مسلہ کشمیر اور بین الاقوامی قوانین کی رو سے گلگت بلتستان ایک متنازعہ خطہ ہے۔ اس خطے کی قسمت کا فیصلہ اُس وقت تک ممکن نہیں جب تک مسلہ کشمیر کی حل کیلئے اقوام متحدہ کی نگرانی میں یہاں رائے شماری نہ ہو۔ یہاں جو نظام رائج ہیں وہ ایک صدارتی حکم نامے پر کھڑی ہے جسکا مقصد مسلہ کشمیر کی حل تک کیلئے یہاں کے باسیوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرنا ہے نہ کہ یہاں کے عوام کو چاروں صوبوں کے برابر حقوق دئے بغیر ٹیکسز کا نفاذ کرنا۔ حال ہی میں گلگت بلتستان کونسل کی جانب سے بنکوں کے لین دین پر ملک کا دیگر شہروں کے برابر ٹیکسس کے نفاذ کا فیصلہ کیا ہے جو کہ اس خطے کے عوام کے ساتھ ایک دھوکہ اور فراڈ ہے۔ کیونکہ گلگت بلتستان کو وفاق سے وہ تمام مراعات دستیاب نہیں جو پاکستان کے چاروں صوبوں کو میسر ہیں اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق ایسا ممکن بھی نہیں کیونکہ گلگ بلتستان میں صوبائی طرز پر نظام بھلے ہی نافذ ہو لیکن اس خطے کی قانونی حیثیت متنازعہ ہے۔ لہذا گلگت بلتستان کونسل کا کوئی بھی فیصلہ جسے آئینی پروٹیکشن حاصل نہ ہو ایک طرح سے چند افراد کی من مانی اور جگا ٹیکس ہے۔ گلگت بلتستان کونسل اگرواقعی میں گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ مخلص ہیں تو کونسل کو چاہئے کہ اس خطے کو این ایف سی ایوارڈ میں شامل کرائیں، وفاق سے یہاں کے وسائل معدنیات، پانی اور گلیشرز کی رائلٹی کا مطالبہ کریں۔نجی موبائل کمپینوں کی جانب سے جو غیر قانونی ٹیکس کلیکشن ہوری ہے اس واپس لینے کیلئے عملی کوشش کریں لیکن ایسا ممکن نظر نہیں آتا۔
گلگت بلتستان میں اس حوالے سے عوامی حلقوں میں شدید تحفظات پایا جاتا ہے اور عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ پہلے گلگت بلتستان کو ملک کا دیگر صوبوں کے برابر حقوق دیں پھر ٹیکس نافذ کریں ورنہ جی بی کا عوام اور کاروباری طبقہ شدید احتجاج کریں گے۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا