گلگت(ٹی این این) گلگت کے مقامی ہوٹل میں گلگت بلتستان سیاسی حالات کے تناظر میں کے عنوان سے سیمنار کا انعقاد کیا۔ سیمنار سے گلگت بلتستان اور آذاد کشمیر کے کئی اہم سیاسی سماجی رہنماوں رکن گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی اور بلاورستان نیشنل فرنٹ (ناجی) کے سپریم لیڈر نواز خان ناجی، ممتاز قانون دان سابق صدر گلگت بلتستان بار کونسل،سابق چیرمین عوامی ایکشن کمیٹی احسان علی ایڈووکیٹ، پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے سینئر رہنماء ابرار علی بگورو، ر اجہ میر نواز میر، پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے سینئر رہنماء ایڈووکیٹ اشفاق احمد، جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنماء توقیر گیلانیاور دیگر نے شرکت کی۔ سمینار سے خطاب کرتے ہوئے نواز خان ناجی نے گلگت بلتستان کے حوالے سے اقوام متحدہ کے قراداد پر اکہتر سالوں عملدرآمد نہ ہونے پر انتہائی تشویش کا اظہار کیا ۔ اُنکا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کے عوام کا حق ہے کہ وہ اپنے معاملات کو خود چلائیں اور اقوام متحدہ کے قراداد کے مطابق ریاست پاکستان مسلہ کشمیر کی حل کیلئے رائے شماری ہونے تک اس خطے کی صرف نگرانی کریں۔ ایک سوال کے جواب میں اُنہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان اسمبلی بے اختیار ہے اور وفاق مسلم لیگ کی حکومت کو داخلی خود مختاری قرار دیتے ہیں جو کہ عوام کے ساتھ دھوکہ ہے اور یہاں اقوام متحدہ کی نگرانی میں انتخابات کرانے کی ضرورت ہے تاکہ معلوم ہوسکے کہ گلگت بلتستان کے عوام کیا چاہتے ہیں۔ اُنکا کہنا تھا کہ اس وقت گلگت بلتستان الیکشن کے نام پر ڈارمہ ہوتا ہے جس کے بارے میں ہر ایک کو علم ہے۔ سیمنار سے خطاب کرتے ہوئے گلگت بلتستان بار کونسل کے سابق صدر اور سابق چیرمین عوامی ایکشن کمیٹی احسان علی ایڈوکیٹ نے کہا کہ گلگت بلتستان کو اب مزید سیاسی طور پر حقوق سے محروم رکھا نہیں جاسکتا لہذا وقت کا تقاضا ہے کہ مسلہ کشمیر کی حل تک کیلئے گلگت بلتستان کے حوالے سے اقوام متحدہ کے قراداد 13 اگست 1948 پر عمل درآمد کرکے گلگت بلتستان میں لوکل اتھارٹی کے قیام کو یقینی بنائیں۔ اُنکا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کی بھی طرح سے اب کسی طرزی نظام کا محمل نہیں لہذا ہمیں اختیار دیا جائے کہ گلگت بلتستان کے لوگ اپنا آئین خود بنائیں اور اپنے وسائل کی تحفظ کیلئے پالیسی بنائیں اس وقت اسمبلی ضرور ہے لیکن اختیارات سے خالی ہے جو کہ ہم اس وقت دیامر کے جنگلات کے حوالے سے جو ہورہا ہے دیکھ رہے ہیں۔ اُنکا کہنا تھا جس طرح آذاد کشمیر کو ایکٹ دیا ہوا ہے لیکن اُس ایکٹ میں وسائل پر اُنکو بھی اختیار نہیں لہذا ہم اپنے وسائل پر اختیار والا نظام چاہتے ہیں جو کہ مسلہ کشمیر کے تناظر میں ہمارا بین الاقوامی قوانین کے مطابق حق ہے۔ سیمنار سے جموں کشمیر لیبریشن فرنٹ کے رہنماوں سے دیگر سیاسی سماجی رہنماوں نے خطاب کیا اور گلگت بلتستان اور آذاد کشمیر کے درمیان سیاسی دوریوں کو مزید کم کرنے کیلئے اس طرح کے سمینار کے انعقاد پر زور دیا۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا