سہانے خواب کا ٹوٹ جانا تکلیف دہ اورازیت ناک ہوتاہے پاکستانی قوم ہرروزاس تکلیف دہ اورازیت ناک مرحلے سے گزررہی ہے سبزباغ اورسہانے خواب دکھانے والوں میں کمی آتی ہے نہ ہی عوام سہانے خواب دیکھناچھوڑ کرحقیقت نگری کی طرف آنے کوتیارہیں یہ سلسلہ سات دہائیوں سے جاری ہے نہ جانے یہ سلسلہ تھم بھی جائے گا یا جاری رہے گا حالات اورواقعات سے اندزہ ہوتاہے کہ کوئی بھی نہیں بتاپائے گا لیکن ہرکوئی وثوق کے ساتھ یہ تو بتاسکتاہے کہ ریاست مدینہ کی باتیں محض ہوائی تھیں دوردورتک بھی اس کے آثارنظرنہیں آرہے ہیں تبدیلی اورنئے پاکستان کا نعرہ سہانا نہیں بلکہ ڈرائوناخواب تھاتبدیلی سرکارکے دورحکومت میں نت نئے ظلم وستم اورجبرواستحصال کی داستانیں تاریخ کا حصہ بنتی چلی جارہی ہیں جن کو پڑھ کررونگٹے کھڑے ہوتے ہیں خلفاء راشدین کے دورمیں دریائے فرات کے کنارے کتابھوک سے مرجانے کا ذمہ دارخلیفہ وقت قرارپاتاہے لیکن تبدیلی سرکارکی ”ریاست مدینہ ”میں خون انسان کی قدروقیمت ہی نہیں ہے نہ ہی ان کی حفاظت کی ذمہ داری ریاست پوری کررہی ہے۔گفتارکے غازی بننے سے ریاست مدینہ حاصل نہیں ہوتا اس کے لئے کرداراورعمل کے غازی بنناہوتاہے ورنہ ساری باتیں عبث اوربے سود ہیں جس طرح کی خبریں چل رہی ہیں اس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ عوام کن کن مسائل سے دوچارہیں اورحکمران کیاکررہے ہیں تبدیلی سرکارجب اقتدارکی نچلی سڑھیاں چڑھ رہی تھی توجہاں پچھلی حکومتوں کی غلطیوں پرتنقیدکے تیربرسانے میں دیرنہیں لگاتی بلکہ ہرمسئلے کا تبدیلی سرکارحل بھی پیش کررہی ہوتی تھی یہ بھی دعوی کررہی ہوتی تھی کہ اگران کو موقع مل گیا تو یہ سارے مسائل حل کیا جائے گا معیشت کو بہتر اورمضبوط کرنے کے لئے ان کے پاس منصوبہ بندی اورمنصوبہ سازتیاربیٹھے تھے کہنے کوتو قانون کی عملدآری ،فارن پالیسی سمیت کیا سے کیا نہیں تھے لیکن عملی اقدامات کا وقت آیا تو سب چارہ سازیاں ناکامی کی راہ دیکھنے لگیں جن پتوں پرتکیہ تھا وہی ہوادینے لگے کپتان کے کھلاڑی پھٹیچراورریلوکٹے نکلے سوشل میڈیا صارفین تو پرانی تصویریں اوربیانات ڈھونڈڈھونڈ کرشیئرکررہے ہیں بات تو سچ ہے اس وقت موجودہ ریاست مدینہ قائم کرنے کے دعویدار کی کابینہ میں شامل وزراء کی بڑی تعداد پیپلزپارٹی دورحکومت کی ہے اوریہ سب جانتے ہیں کہ پیپلزپارٹی کے بیشترقائدین پرکرپشن کے الزامات اوروہ مختلف عدالتوں کا سامناکررہے ہیں اب سوال یہ پیداہوتاہے کہ کیاجوسیاستدان پی پی پی ،ن لیگ یا دوسری جماعتیں چھوڑ کرکھلاڑی بنے ہیں ان میں سے کئی اب وزارت کے مزے بھی لے رہے ہیں وہ بے گناہ ،کرپشن سے پاک ہیں جن وزراء پرنیب میں مقدمات ہیں عمران خان کے کھلاڑی بن جانے سے ان پرلگے کرپشن کے داغ دھل جائیں گے؟۔
اس وقت حکمران تذبذب کاشکاراورمخمصے میں گرفتارنظرآرہے ہیں یہ طے نہیں کرپارہے ہیں کہ مشکلات کا کیسے مقابلاکیاجائے اورمہنگائی ،بدامنی اوردیگرمسائل کاکیسے حل نکلایا جائے وزیراعظم ہائوس کی چند گاڑیاں اوربھینسیں نیلام کرنے سے مسائل تو حل نہیں ہونگے مسائل کے حل کے لئے سنجیدہ لوگوں پرمشتمل ٹیم کی ضرورت ہے جو درپیش مسائل کے حل کے لئے کوشش کرے ۔اس وقت غریب عوام جہاں مہنگائی کا مقابلہ کررہے ہیں وہاں ظلم اورناانصافی کابھی سامناکررہے ہیں پنجاب سمیت دیگرصوبوں میں وہی پولیس اہلکارعوام کی جان ومال کے تحفظ پرمامورہیں جوگزشتہ حکومتوں کے دورمیں سفارشی اورفرقہ وارانہ بنیادوں پربھرتی ہوئے افسران سیاسی بنیادوں پرتعینات ہوئے ہیں اسی طرح بیوروکریسی وہی ہے جو پہلے سے نظام چلارہی ہے چہرے بدل کرتبدیلی لانے کا زعم ایک حسین خواب تو ہوسکتاہے عملی اقدام ہرگزنہیں تحریک انصاف نے بیس سال سے زائد کا عرصہ جدوجہد میں گزارا تب جاکرعمران خان کو اقتدارملا اس دوران جلسوں اوردھرنوں میں شامل ہونے والے یاتقریرکرنے والے صرف تماشہ بین تھے ان کا کام سوشل میڈیاپرطوفان بدتمیزی برپاکرنا اورسفید جھوٹ کوسچ دکھانے کی ناکام کوشش کے علاوہ کچھ نہیں تھا جو اب بھی جاری ہے اس وقت ان حکمرانوں کی نالائقی اورنوآموزی کی وجہ سے کہیں بھی اچھی حکمرانی ( Governance Good)نظرنہیں آرہی ہے وہی زرداری اورنوازشریف والانظام چل رہا ہے نچلی سطح پرعوام سے ہونے والی ناانصافیوں کے ازالے کے لئے کوئی اقدام نہیں ہورہا وزیراعظم کی جانب سے سٹیزن پورٹیل ایپ متعارف کروایالیکن کن افراد کی داد رسی ہوئی اس کے کتنے نتائج سامنے آئے کتنے کرپٹ افرادکو سزا ہوئی کوئی پتہ نہیں ہے اگرگنے چنے افرادکی بھی داد رسی اوراتنے ہی بدعنوان لوگوں کو سزا ہوتی تو حالات یکسرمختلف ہوتی تھانوں میں وہی پرانا نظام اورایس ایچ اوزہیں جن کے ظلم وستم کی داستانیں کوئی نئی نہیں وہی پٹواری وہی رشوت خوری وہی استاد وہی طرزتعلم اور صحت کی وہی سہولیات ،نظام میں معمولی سی بھی بہتری آئی ہوئی ہوتی تو نشوہ اور رضیہ غلط انجکشن لگنے سے موت کے منہ میں نہ چلی جاتیں نشوہ کی موت سراسرلاپرواہی اورغفلت کے باعث واقع ہوئی باہمت بچی موت کو مات دینے اورزندگی کی جنگ لڑنے کی کوشش کرتی نظرآرہی تھی اس میں اس کے باہمت والدین نے بھی ساتھ دیا مگراس کی ننھی جان سماج کی غفلت،بے حسی ،ظلم وستم اورجبرواستحصالی نظام کے سامنے ہارگئی رسمی پکڑ دھکڑ روایتی بیانات روایتی ہمدری کے چند بول دیکھنے کو ملیں گے پھروقت گزرنے کیساتھ یہ سب بھی قصہ پارینہ بن جائے گاچہروں کی تبدیلی سے اگرنظام میں تبدیلی آئی ہوئی ہوتی تو پنچاب میں وڈیرے کی طاقت کے سامنے غریب بچی کا باپ بے بسی کے عالم میں آنسونہ پی رہاہوتا تھانیدارغریب لوگوں پرقہربن کرنہ ٹوٹ پڑرہے ہوتے۔عوام سہانا خواب دیکھنے کے عادی ہوچکے ہیں مانا کہ ہرمشکل کے بعد آسانی ہوتی ہے ہرگھپ اندھیری رات کے بعد سحرہوتی ہے مگرموجودہ حالات وواقعات کو دیکھ کرسحراورآسانی کی باتوں میں دوردورتک سچائی اورحقیقت نظرنہیں آرہی بلکہ یہ صرف سحربیانی اورسحرطرازی سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے۔اس وقت وزیراعظم سمیت پی ٹی آئی سے وابستہ ہرفرد تبدیلی کی بات تو کرتانظرآتاہے مگرکہیں تبدیلی نظرنہیں آرہی ہاںعوام لاقانونیت ،مہنگائی اوربدامنی کی صورت میں تبدیلی محسوس کررہے ہیںاس وقت عوام مسائل کے دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں جبکہ حکومت مسائل پر قابوکرنے میں ناکامی سے دوچارہے واضح رہے کہ ریاست مدینہ حکمرانوں کے لئے ایک نمونہ ہے جس میں امیراورغریب کے لئے قانون برابراورآئین کی بالادستی تھی کوئی امیرغریب کا حق نہیں مارسکتاتھامسلمان اورریاست مدینہ میں رہنے والے مشرکین اورکفارسب کی جان ومال کے تحفظ کی ذمہ داری مدینہ کی ریاست پرعائد تھی اوروہ یہ ذمہ داری بطریق احسن نبھاتی بھی تھی جبکہ یہاں پانی مانگنابہ عبارت دیگرحق مانگنا سنگین جرم ہے سکردومیں خواتین پانی کی عدم فراہمی پراحتجاجاًسڑکوں پرآئیں یہ صوبائی حکومت اورسکردوانتظامیہ بلکہ بلتستان ڈویژن کے وائسرائے کی ناکامی کا بین ثبوت ہے خواتین کا سڑکوں پرآنا لمحہ فکریہ ہے صوبائی حکومت کی غلط پالیسیوں اوربیوروکریسی کی عوام کے ساتھ اپنائے جانے والے رویئے سے عوام میں احساس محرومی پنپ رہاہے جس کے نتائج بھیانک نہیں تو اچھے بھی نہیں ہوتے اس وقت گلگت بلتستان کے عوام بہت سارے بنیادی سہولیات سے محروم چلے آرہے ہیں یہاں ملک کے دیگرعلاقوں کی نسبت تعلیمی ادارے نہیں ہیں میڈیکل اورانجینئرنگ یونیورسٹی اورکالجزنہیں ہیںملک بھرسے مضرصحت اشیاء خوردونوش گلگت بلتستان لانے سے یہاں نت نئی اورمہلک بیماریاں پھیل رہی ہیں کئی علاقوں میں ایپنڈیکس سمیت کئی دیگربیماریاں وبائی شکل میں پھیل گئی ہیں حکومت ان بیماریوں کے پھیلنے کی وجوہات معلوم کرنے کے لئے اقدامات کرنے کے بجائے خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے بجلی کا بحران حل طلب ہے اس پرتوجہ ہی نہیں دی جارہی ہے اسی طرح سکولوں میں اساتذہ کی کمی کی وجہ سے ہزاروں بچوں کی تعلیم متاثرہورہی ہے مگرحکمران اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنے اورعوام کو بہترسہولیات کی فراہمی کے لئے تیارہی نہیں ہرکوئی خوش گمانی میں اورحکمران عوام کو خوش گمانی میں مبتلا کرنے کی کوشش میں بھی ہیں اس وقت تمام علاقے بنیادی سہولیات سے محروم ہیں جبکہ عوام ضلع بنانے کا مطالبہ کرنے میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے میں مصروف ہیں حکومت اگرسہولیات سے محروم عوام کو پانی سمیت دیگربنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنادیتے تو احتجاج کی نوبت ہی نہ آتی ۔صوبائی حکومت فاش غلطیوں اورعوام کے مسائل کے حل کی طرف سنجیدہ توجہ نہ دینے کی وجہ سے علاقے کے عوام بیوروکریسی کے ہاتھوں ازیت برداشت کرنے پرمجبورہیں جس دن صوبائی حکومت نے اپنی غلطی کا احساس کیا اگلے دن سے ہی عوام کے بیشترمسائل حل ہونے لگیں گے حقیقت یہ ہے کہ حکومت جان بوجھ کرعوام کو تنگ کررہی ہے گلگت بلتستان میں اس وقت دوالگ الگ قوانین اورحکومت کی طرف سے دہرا معیارچل رہاہے حکومت کی رٹ کو سرعام للکارنے اورعوام کوشاہراہوں کی بندش کی دعوت دینے والے بااثرافراد کے دھمکیوں کے نتیجے میں نئے اضلاع بنتے ہیں جبکہ پانی مانگنے اورپانی کی فراہمی میں انتظامیہ کی طرف سے ہونے والی غلطیوں پراحتجاج کرنے والے افراد پرکارسرکارمیں مداخلت کا الزام عائد کرکے انسداددہشت گردی کے دفعات لگائے جاتے ہیں کسی کا نام حق گوئی کے جرم میں فورشیڈول میں ڈالا جاتاہے سوال یہ پیداہوتاہے کہ سرکار کے کونسے کام میں عوام نے مداخلت کی سرکارکام کررہی ہوتی اوراپنی ذمہ داریاں نبھا رہی ہوتی تو احتجاج کرنے اور مداخلت کرنے کی نوبت ہی نہ آتی عوام نے کارسرکارمیں مداخلت نہیں بلکہ ان کے عیاشانہ ،فروعونہ اورشاہانہ غرور کو توڑنے اوراصل ذمہ داری کی طرف توجہ مبذول کرنے کی کوشش کی تھی چھوٹے سے احتجاج پرانسداد دہشت گردی کے دفعات لگانا مضحکہ خیزاقدام ،قانون اوراختیارات کا غلط استعمال ہے جس نے بھی ایسا کیا یا ایسا کرنے کا حکم دیا ہے ان کے خلاف قانون اوراختیارات کے ناجائزاستعمال کے پاداش میں مقدمہ چلاجائے اورانہیں قرارواقعی سزادلائی جائے۔
تحریر :حبیب اللہ آل ابراہیم
More Stories
شاہراہ بلتستان ،شاہراہ قراقرم کی زبوں حالی اور سیاحت کا مستقبل۔
دیرینہ کارکنوں کی قربانیاں اور سیاسی جماعتیں
اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کا مقدمہ ہے یا نہیں ؟