اگر ہم معاہد ہ کے معنی اور مفہوم کا جائزہ لیں تو معاہد ہ سے مراد دو یا دو سے زیادہ فریقین کے درمیان ایسا سمجھوتہ،جس میں تمام فریقین کی منشاء، رضا مندی اور شمولیت سے طے پائے معاہدہ کہلاتا ہے۔اسی طرح کے ایک معاہدے کی یاد میں گلگت بلتستان کی قوم ہر سال 28اپریل کو یوم سیاہ مناتے ہیں،کیونکہ اس دن بھی تاریخ کا ایک ایسا اندوھناک معاہدہ کراچی میں طے پایا تھا جس کی تاریخ میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔مجھے سمجھ نہیں آتا کہ میں اس سے معاہدے کا نام دوں یا کاروکاری کا۔مجھ لگتا ہے کہ یہ جو 28اپریل 1949کو کراچی میں طے پایا تھا وہ معاہد ہ نہیں بلکہ کاروکاری تھا۔کاروکاری اس لئے تھا کہ معاہد ہ میں تو تمام فریقین کی شمولیت اور رضا مندی شامل ہوتی ہے لیکن کاروکاری میں صرف جرگہ بیٹھ کر فیصلہ کرتا ہے اور اس فیصلے کو اٹل مانا جاتا ہے۔کاروکاری کی روایت سندھ میں عر صہ قدیم سے چلتی ہوئی آرہی ہے۔اس معاہد ہ میں بھی جو وزیر بے محکمہ تھے جو پاکستان کی نمائندگی کررہے تھے وہ بھی سندھ اسمبلی کے ممبر تھے اور ان کا تعلق بلو چستان سے تھا، اور مزے کی بات تو یہ ہے کہ سندھ اسمبلی کا ایک آدنیٰ سا ممبر اس معاہدہ میں پاکستان کی نمائندگی کررہا تھا،میں کبھی سوچتا ہوں کہ 1949 ء کی وفاقی حکومت کے کسی نمائندے نے اس معاہدہ میں شرکت کیوں نہیں کی اور نمائندگی ایک صوبائی اسمبلی کے ممبر کو سونپ دیں تب نظریہ کاروکاری کو تقویت ملتی ہے،کیونکہ وفاق کے نمائندے اس کاروکاری کی گناونی رسم سے نابلد تھے اس لئے مشتاق گورمانی کا سہارالینا پڑا۔مشتاق گورمانی کا تعلق بلوچستان سے ہے۔28اپریل 1949کو کراچی کے جس بند کمرے میں 28ہزار مربع میل خطہ گلگت بلتستان اور 26لاکھ سے زیادہ آبادی والے اس خطے کے مستقبل کا فیصلہ سمیت ریاست آزاد کشمیر کے مستقبل کا بھی فیصلہ طے پایا۔فریقین میں جیسا کہ ذکر ہوچکا ہے پاکستان کی نمائندگی مشتاق گورمانی نے کی اور کشمیر کی نمائندگی آزادکشمیر کے وزیر اعظم سردار محمد ابراہیم خان اور چوہدری غلام عباس نے کی۔یوں تین افراد پر مشتمل اس وفد نے ایک پر سکون بند کمرے میں بیٹھ کر گلگت بلتستان اور کشمیر کا فیصلہ طے کیا۔چوہدری غلام عباس آل جموں کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر تھے اورانہوں نے 1948ء میں مہاجر کی حیثیت سے کشمیر سے راولپنڈی ہجرت کی تھی۔غلام عباس منتخب نمائندہ بھی نہیں تھے بلکہ ایک پارٹی کے نام نہاد سربراہ تھے۔تین افراد پر مشتمل اس وفد میں سے کسی ایک کا بھی تعلق کہیں سے بھی گلگت بلتستان سے نہیں ملتا۔اچھا مزے کی بات تو یہ ہے کہ اس معاہدے میں کرگل لداخ کا بھی ذکر کیا گیا ہے اور معاہدہ میں لداخ کو شامل کیا ہے۔حالانکہ لداخ پاکستان کے زیرا نتظام نہیں بلکہ انڈیا کے زیرانتظام ہے۔یعنی معاہدے میں پاکستان سمیت انڈیا کے زیر انتظام جتنے بھی مقبوضہ علاقے ہیں سب کا معاہد ہ پاکستان کے ساتھ طے کیا گیا،سوائے مقبوضہ کشمیر کے۔اگر مقبوضہ کشمیر کا مسلہ اقوام متحدہ میں نہیں ہوتا تو پاکستان کے یہ جانثار بلا چوں چراں اس کو بھی معاہدہ کا حصہ بناکر پاکستان کی جھولی میں رکھ دیتے۔ایک لمحے کیلئے تسلیم کربھی لیں کہ معاہدہ میں کشمیریوں کی بھر پور نمائندگی موجود تھی،مگر گلگت بلتستان کی نمائندگی کون کررہا تھا،کیا آزاد کشمیر کے کٹ پتلی وزیر اعظم کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ گلگت بلتستان کی نمائندگی کرے،کیا گلگت بلتستان کشمیر کا حصہ ہے جو کشمیری اس خطے کے نمائندگی کشمیر سمجھ کر کریں،کیا اس وقت کشمیر اسمبلی میں گلگت بلتستانیوں کی نمائندگی تھی کہ ہم کہ سکیں کہ وزیراعظم کو نمائندگی کا حق حاصل ہے،کیا آزاد کشمیر کے وزیراعظم،سمیت اسمبلی ممبران کے انتخاب میں گلگت بلتستانیوں نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا تھا جو کہ ہم کہ سکیں کہ نمائندہ ہے اور اس کو نمائندگی کا حق حاصل ہے۔کیا آل جموں کشمیر مسلم کانفرنس جس کے صدرچوہدری غلام عباس،جو کہ اس معاہدہ میں تیسرے فریق ہیں،کیاآل جموں کشمیر مسلم کانفرنس گلگت بلتستان،لداخ میں بھی تھی، نہیں ایسا کچھ بھی نہیں تھا تو پھر کس قانون کے تحت کس جواز کے تحت یہ سب کچھ کیا گیا اور کسی کو کانوں کان خبر تک نہ ہوئی۔ریاست کے ساتھ کوئی بھی معاہدہ اس وقت تک طے نہیں ہوسکتاجب تک ریاست کے صدر ووزیراعظم سمیت وفاقی وریاستی نمائندگی موجود نہ ہو۔اگر دیکھاجائے تو اس فیصلے کی کوئی قانونی وآئینی حیثیت نہیں،بلکہ یہ فیصلہ عالمی قوانین معاہدہ کے بلکل تضاد ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج نہ صرف گلگت بلتستان کے لوگ بلکہ آزاد کشمیر کے لوگ بھی اس فیصلے کو تاریخ کا گناونا فراڈ سے تشبیہ دیتے ہیں۔یہ سب ایک پری پلان گیم کا حصہ تھا۔معلوم نہیں محمد ابراہیم،چوہدی غلام عباس اور مشتاق گورمانی کی اس معاہدہ کے عوض کتنی قیمت لگی ہوگی۔ ویسے اس سب کی ضرورت کیوں اور کس لئے پیش آئی،کس لیے 28اپریل 1949کو کراچی کے ایک بند کمرے میں یہ معاہد ہ کرنا پڑا،یہ جاننا بہت اہم ہے۔قیام پاکستان کے فورا بعد ہی پاکستان اور نڈیا کے درمیان جو کشمکش تھی وہ کشمیر کو ہتھیانے کی تھی،کشمیر کے لوگ پاکستان سے الحاق سے چاہتے تھے مگر یہ فیصلہ کرنے میں بہت دیر کیں،بقول شاعر
لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی۔
کشمیر ی اپنی ہی ہاتھوں اپنی تقدیر کا رونا روتے ہیں،ماتم کرتے ہیں اور جو کیا ہے اس کی سزا کاٹ رہے ہیں۔اگر وقت پر کشمیری فیصلہ کرتے تو نوبت یہاں تک نا آتی،خیر مقبوضہ کشمیر کے راجہ ہری سنگھ نے جب پاکستانی حملوں کے پیش نظر بھارت کودعوت کہ وہ آئیں اور دفاع میں ان کا ساتھ دیں بصورت دیگر پاکستان کشمیر کو ہتھیا لے گا،تب مکار بھارت نے کچھ شرائط طے کیں۔شرائط میں بھارت سے الحاق طے تھا۔بھارت نے ہری سنگھ کے توسط سے باضابطہ الحاق کی دستاویزات حاصل کی یوں کشمیر دستاویزی طور پر بھارت کا ہوگیا۔28اکتوبر 1947کو جب کشمیر پر قبائلی مجاہدین کی فوج نے حملہ کیا تو بھارت نے شکست اور خوف کے سائے کو قریب سے گزرتے دیکھ کر یکم جنوری 1948کواس مسلے کو اقوام متحدہ میں اٹھا یا،جس کے بعد ریاست وجموں کشمیر متنازع ریاست قرار پائی۔اس فیصلے کے بعد کشمیر یوں کی طرف سے کوئی خاص مزاحمت دیکھنے کو نہیں ملی۔گلگت بلتستان کے غیور لوگوں نے آزادی حاصل کرنے کی ٹھان لی تھی اور مسلسل کوششوں کے بعد یکم نومبر 1947کو 16دنوں کی آزادی نصیب ہوئی۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے مقابلے میں بھارت کے پاس الحاق کشمیر کے دستاویز ی ثبوت موجود تھے اور کیس بھارت کا مضبو ط تھا،پس پاکستانی دماغ کام کرگیا اور سوچا کیوں نہ ہم بھی اقوام متحدہ میں اپنے لئے دستاویزی ثبوت ٹھوس شکل میں پیش کریں،بس اسی خیال کی دیر تھی کہ کراچی میں بند کمرے کا معاہدہ الحاق پاکستان ہوا،یوں پاکستان عالمی سطح پر سرخرو ہوا اور مقبوضہ کشمیر کو حاصل کرنے کے چکروں میں گلگت بلتستان کو بھی بے باکی سے مقبوضہ بنا کر پیش کرنے میں کامیاب ہوا۔حالانکہ یہ معاہدہ گلگت بلتستان کی آزادی کے ڈیڑھ سال بعد طے پایا جبکہ گلگت بلتستانیوں نے اس وقت ہی گلگت بلتستان کو پاکستان کی تحصیل تسلیم کرلیا تھا جب16نومبر 1947کو نمائندہ قائد اعظم جناب نائب تحصیلدار سردار عالم نے گلگت بلتستان تحصیل کی بھاگ دوڑ سنبھالی تھی۔70سال گزر گئے گلگت بلتستانی اس معاہد ہ کی وجہ سے حقوق سے محروم ہیں،آج ایسی نہج پر گلگت بلتستان کھڑا ہے کہ نہ تو آئینی حقوق حاصل ہیں اور نہ ہی متنازع خطے کے حقوق۔گلگت بلتستانی اب اٹھ چکے ہیں۔اب مزید ان کو روکا نہیں جا سکتا ہے ہاں یہ ضرور ہے ان کو ستا کر،حقوق غصب کرکے،فورتھ شیڈول میں ڈال کر،غدار ی کے القابات سے نواز کر،قید وبند کرکے پاکستان مخالف جذبات کو ابھرا جاتا ہے اور ریاست پاکستان سے خلوص بھرے رشتے کو کمزور کیا جاتا،مگر وہ کہتے ہیں نا کہ صبر کا پیمانہ جب لبریز ہوجاتا ہے دریائے سندھ کی اس طغیانی سے بھی زیادہ خطرناک ہوتا ہے جو سامنے آنے والی ہر چیز کو بہا لیجاتی ہے،دریا سندھ کی موجوں میں دم گلگت بلتستان کے پہاڑوں کی مرہون منت ہے،کچھ قومیں ایسی ہوتی ہیں جو جھاگتی بڑی دیر سے ہیں،جب جھاگ جائیں تو پھر حقوق کے حصول میں دیر نہیں لگاتی،ا س لئے اس دنیا کی بہادر ترین،جفاکش ترین قوم کے نوجوانوں کا خیال کیا جائے،کہیں ایسا نہ ہویہ بھی دریائے سندھ کی طرح بھپر جائیں۔پھر تمام محبتیں ماند پڑجائینگی۔اس لئے اس قوم کے صبر کا امتحان لیے بھی وہی حقوق دیئے جائیں جو اس قوم کا حق ہے۔
تحریر: عبدالحسین آزاد
More Stories
شاہراہ بلتستان ،شاہراہ قراقرم کی زبوں حالی اور سیاحت کا مستقبل۔
دیرینہ کارکنوں کی قربانیاں اور سیاسی جماعتیں
اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کا مقدمہ ہے یا نہیں ؟