چلاس(ٹی این این) ضلع دیامر کے سب ڈویژن داریل کھنبری ڈوڈوشال کے عوام ے اپنے مطالبات کے حق میں شاہراقراقرم پہ دھرنا دیکر ہر قسم کی ٹریفک کے لئے بند کر دیا ۔تفصیلات کے مطابق ایبٹ آباد کے مقامی عدالت میں سید ارشاد حسین نامی ایک غیر مقامی نو سربازضلع دیامر داریل کھنبری ڈوڈوشال کے لوگوں کی پشتینی ملکیتی جنگلات پر حق ملکیت کا دعوی کروایا گیا ہے۔ جبکہ گلگت بلتستان ایک متنازعہ علاقہ ہے اور اس علاقے کے حوالے کسی بھی قسم کا ایشو صرف گلگت بلتستان کے خصوصی عدالتوں میں پیش ہوتا ہے۔ دیامر کے عوام نے اس بدترین سازش کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے شاہراہ قرار کو کسی بھی قسم کے ٹریفک کیلئے مکمل طور پر بند کر دیاجس کے باعث ملک کے دیگر شہروں سے گلگت بلتستان سفر کرنے والے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اٹھا رکھے ہیں۔جس میں اپنے مطالبات کے حق اور خیبر پختون خواہ حکومت کے خلاف نعرے درج ہیں۔اس موقع پہ شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا تھاعوام داریل کا ملکیتی جنگلپر 1926 قیام پاکستان سے قبل کے نام نہاد معاہدے اور جعلی معاہدے کی آڑ میں کے پی کے کی عدالت نے سٹے دی ہے جبکہ اُس وقت گلگت بلتستان ریاست جموں کشمیر کی قانونی اکائی تھی اور آج بھی ریاست مسلہ کشمیر کے تناظر میں گلگت بلتستان ایک متنازعہ خطہ اور کشمیر کا حصہ ہے۔،مظاہرین کا کہنا تھا کہ محکمہ جنگلات خیبر پختون خواہ دیامر ٹمبر پالیسی کو سبوتاژ کر رہا ہے اور نام نہاد اور جعلی معاہدے کی آڑ میں مقامی لوگوں کو معاشی قتل کر رہے پیں۔جو ہمیں کسی صورت قبول نہیں۔خیبر پختونخواہ حکومت دیامر کے عوام کے ساتھ ناروا سلوک کا سلسلہ بند کرے۔ان کا مزید کہنا ہے کیسی بھی علاقے میں فریقین کے مابین جھگڑے کا تصفیہ مقامی عدالت میں ہوتا مگر یہاں گنگا الٹی بہتی ہے دیامر کے جنگل کا تصفیہ خیبر پختون خواہ کی عدالت میں زیر سماعت ہے جو کہ سراسر غیر قانونی اور ناانصافی پہ مبنی ہےانھون نے کہا کہ مطالبات کے حل ہونے تک شاہراہ قراقرم ہر قسم کی ٹریفک کے لئے بند رہے گا۔
ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے محدود مدت کیلئے دیامر کے جنگلات میں کٹی ہوئی لکڑیوں کو دوسرے شہروں اور گلگت بلتستان بھر سپلائی کرنے کی اجازت دی ہے اسی تناظر میں ذراِئع کے مطابق سیکرٹری جنگلات خیبرپختونخواہ کی ملی بھگت سے اس سر باز کے کمیشن لینے کیلئے ایبٹ آباد کی عدالت سے سٹے آرڈر لی ہے جبکہ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کے تناظر میں غیر مقامی عدالت کا مقامی مسائل پر سٹے آرڈر کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا