سکردو(ٹی این این) گلگت بلتستان کے سینئر وزیر و وزیر پانی و بجلی حاجی اکبر تاباں نے انجمن تاجران سکردو کے زیر اہتمام پانی اور بجلی کے بحران کے حوالے سے آل پارٹرز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ صرف سکردو شہر میں جاری ہے باقی تمام دیہی علاقوں میں ایک منٹ کیلئے بجلی لوڈشیڈنگ بند نہیں ہوتی ہے ۔ اُنکا کہنا تھا اور ماضی میں اس سیکٹر کو نظرانداز کیا گیا تھا اور انتخابات میں عوام سے جو وعدہ کیا گیا اور ہماری پارٹی کا جو منشور کا حصہ تھا ان پر کام کردیا ان میں گلگت سکردو روڈ پر کام جاری ہے پانچ پلوں مکمل ہوگئے ہیں اور بلتستان یونیورسٹی بنایا انہوں نے کہا کہ سکردو شہر کے لئے بجلی بحران کا خاتمہ کرنے کیلئے سدپارہ نالے میں پانچ میگاواٹ بجلی پر اس سال کام شروع ہوجائے گا اور مقپون ژھر پل ایریا میں ساڑھے تین میگاواٹ کا پاور ہاوس بنایا جارہا ہے مگر افسوس کو یہ پروجیکٹ سیاست کی نظر ہورہا ہے اور اہل علاقہ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بجلی کی اس اہم منصوبے کو سیاست کی نظر ہونے سے بچائے اور عوام کا جو بھی مطالبہ ہے اس کو پورا کیا جائے گا پاور ہاوس پر جو سٹاف بھرتی کرنا ہے وہ بھی اسی ایریاز کے لوگوں کو بھرتی کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر ذاتیات پر تنقید کرنا ناقابل برداشت ہے اگر ہماری نااہلی کرپشن کے حوالے سے کوئی شکایت ہے تو بتاو ہماری حکومت نے گلگت بلتستان سے کرپشن کا خاتمہ کیا اج ہمارے پارٹی کے کارکن کو کوئی ٹھیکہ نہیں مل رہا ہے پی پی پی وحدت مسلمین اور پی ٹی ائی کے ٹھیکیداروں کے پاس چار چار ٹھیکہ ہے ہمارے کارکن دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں اگر ہم کرپشن کرتا تو سارا ٹھیکہ ہمارے کارکنوں کے پاس ہوتا ہماری حکومت نے گلگت بلتستان سے جنگل کا قانون ختم کردیا ہے۔
دیگر اضلاع میں بجلی کے لوڈ شیڈنگ نہ ہونے کے حوالے سے اُنکا بیان گمراہ کُن ہے کیونکہ لوڈشیڈنگ سے صرف ضلع سکردو متاثر نہیں بلکہ ضلع کھرمنگ ،شگر اور گانچھے کا صورت حال بھی بلکل ایسا ہی جو سکردو میں نظر آتا ہے لیکن وہاں کے مسائل میڈیا میں خبر نہیں چھپتی۔ اگر ضلع کھرمنگ کی بات کریں تو ضلع کھرمنگ کے عوام اس وقت بھی بدترین لوڈ شیڈنگ سے پریشان ہیں اور اس حوالے سے سوشل میڈیا پر لوگوں کو صبح شام احتجاج کرتے نظر آتا ہے
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا