کھرمنگ(ٹی این این)ضلع کھرمنگ میں ایل جی آر ڈی کی جانب سے پچھلے سال پریس کلب کو دی جانے والی فنڈزسے لی جانے والی سامان کچھ افراد کے ذاتی استعمال میں ہونے کے حوالے سے تحریر نیوز نیٹ ورک کی خبر کے بعد سامان دوبارہ پلاسٹک میں پیکنگ ہونے لگے۔ جبکہ پریس کلب کھرمنگ کا خود ساختہ صدر تمام سامان جن میں قیمتی فرنیچرز ،لیپ ٹاپ اورپرنٹرز شامل ہے کھرمنگ کے دیگر صحافیو ں کو اعتماد میں لئے بغیر استعمال کر رہے ہیں ۔ کہا یہ جارہا ہے کہ ضلع کھرمنگ میں ابھی تک پریس کلب کے ممبران کی صدر اور جنرل سیکرٹری کے لئے کوئی انتخابات نہیں ہوئی اس حوالے سے کھرمنگ سے تعلق رکھنے والے دوسرے عامل صحافیوں کا کہنا ہے کہ جب تک کھرمنگ میں تمام صحافیوں کی پریس کلب کے صدر اور جنرل سیکرٹری کے انتخاب کے لئے الیکشن نہ ہو اس وقت تک پریس کلب کھرمنگ کے فرنیچرز اور دوسرئے قیمتی سامان ضلعی انتظامیہ کے تحویل میں لینا چاہئے کیونکہ اس حوالے سے کھرمنگ کے دوسرے صحافیوں میں شدید خدشات پایا جاتا ہے۔ اُنکا یہ بھی کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ کو چاہئے کہ کھرمنگ میں محکمہ ایل جی آر ڈی کے عوامی ترقیاتی فنڈز جومختلف صحافیوں کی ایما پر رشتہ داروں کی(رسالے)کی تشہیر پر استعمال ہو رہے ہیں اُس پر فورا پابندی لگایا جائے اور آئندہ عوامی ترقیاتی فنڈزکو صرف اور صرف عوامی مفادات اور ترقیاتی کاموں کے لئے صرف کریں۔ اس حوالے سے کھرمنگ کے عوامی حلقوں کا بھی کہنا ہے کہ صرف عوام اور سرکاری اداروں میں کی جانے والی غیر قانونی کام کرپشن کے زمرے میں آتے ہیں کیا اگر کوئی رپورٹرصحافت کے آڑ میں اس طرح کے کام کرتے ہیں تواسے کرپشن نہیں کہا جائے گا؟ لہذا اُن عناصرکے خلاف کاروائی ہونی چاہئے۔ عوامی حلقوں نے ضلعی انتظامیہ ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر سے پر زور مطالبہ کرکیا ہے کہ اس حوالے سے غیر جانبدار تحقیقات کرائیں اور صحافت کے لبادے میں موجود کرپٹ عناصر کو سزا دیں اور ایسے افراد کو صحافت سے روکیں کیونکہ صحافت میں جہاں مفاد شامل ہوجائے وہاں عوامی مسائل کی نشاندگی ناممکن ہے۔یاد رہے ضلع کھرمنگ میں اس وقت عملی طور پر پریس کلب کا وجود ہی نہیں اور نہ ہی حکومت نے پریس کلب کیلئے کوئی دفاتر کا انتظام کیا ہے ۔
کھرمنگ پریس کلب کے نام پر کرپشن منظر پر آنے کے بعد کرپٹ مافیا کرپشن چھپانے کیلئے سرگرم.
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا