لاہور (ویب ڈیسک /ٹی این این) لاہور ہائیکورٹ نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماءاور پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز شریف کی حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں 8 اپریل تک گرفتار کرنے سے روک دیا ہے جس کے بعد نیب ٹیم واپس روانہ ہو گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق نیب کی ٹیم آج دوبارہ حمزہ شہباز شریف کو گرفتار کرنے پہنچی جو صبح سے ہی ان کے گھر کے باہر موجود ہے۔ حمزہ شہباز شریف نے لاہور ہائیکورٹ میں ناصرف نیب کے وارنٹ گرفتاری چیلنج کئے بلکہ عبوری ضمانت کی درخواست بھی دائر کی جسے پیر کے روز سماعت کیلئے مقرر کیا گیا۔ تاہم حمزہ شہباز شریف کے وکیل ایڈووکیٹ امجد پرویز نے لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سے ان کے چیمبر میں ملاقات کر کے درخواست پر آج ہی سماعت کرنے کی استدعا کی۔
لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سردار شمیم خان نے حمزہ شہباز شریف کے وکیل کی متفرق درخواست پر سماعت کرتے ہوئے نیب کو حمزہ شہباز شریف کو 8 اپریل بروز پیر تک گرفتار کرنے سے روک دیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے حمزہ شہباز شریف کی عبوری ضمانت کی درخواست کی سماعت کیلئے 2 رکنی بینچ بھی تشکیل دیدیا ہے جو پیر کے روز سماعت کرے گا اور اس کیساتھ ہی حمزہ شہباز شریف کو بینچ کے روبرو پیش ہونے کے احکامات بھی دئیے گئے ہیں۔
عدالتی حکم کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماءاور پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز شریف نے کہا ہے کہ نیب کی یلغار نے 12 اکتوبر کی یاد تازہ کر دی ہے، لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے گرفتاری روکنے کے حکم سے ہمارے موقف کو تقویب ملی۔
لاہور ہائیکورٹ نے حمزہ شہباز شریف کو گرفتار کرنے سے روک دیا،نیب ٹیم واپس۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا