علاقہ بے آئین کے پاکستانی۔۔

0 0

گلگت بلتستان کے باشندے اپنے آپ کو علاقہ بے آئین کے باسی کہہ کرپُکارتے ہیں۔ جس قوم نے ۱ نومبر1947 ؁ کو ہندو ظالم حکمران ڈوگرہ راج سے اپنی مدد آپ کے تحت آزادی حاصل کی اوراپنی مستقبل کو بغیر کسی شرط کے اسلامی جمہوریہ پاکستان کو سونپ دی اور اس قوم کے آبائو اجداد نے اُس وقت قسم کھائی تھی کہ اس کے بعد ان کا جینا مرنا پاکستان کی امانت ہوگی اور آج بھی ان کی اولاد اُس قسم کی لاج رکھتے ہوئے اس قوم کاایمان صرف اور صرف پاکستان ہے اور رہے گا۔لیکن کچھ خود غرض سیاستدان، کچھ بدتمیز بیوروکریٹس، کچھ بِکائو ٹی وی میزبان شاید اس خطے کے جفاکش عوام کی تاریخ اور قربانیوں سے ناآشنا ہیں اور شاید یہ لوگ گلگت بلتستان کو بھی بلوچستان اور افعانستان بنانا چاہتے ہیں جو اپنی نفرت انگیزبیانات سے بار بار گلگت بلتستان کے عوام کی دل آزاری کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔
پچھلے سال ایک اعلٰی آفسر نے ایک غریب گلگت بلتستانی کو مخاطب کرکے پوچھا تھا کہ پاکستان گلگت بلتستانیوں کو اربوں کے فنڈز دیتا ہے ، تم پاکستان کوکیا دیتے ہو ؟
اس تذلیل آمیزرویے کا جواب ذرا پوراپاکستان ملاحظہ کریں۔جو قوم اپنی ماضی ، حال اور مستقبل کو پاکستان کے نام پر قربان کرچکاہے اور تمہیں اس قوم سے کیا چاہیے ؟ گلگت بلتستان کی دریائی پانی پورے پاکستان کو سیراب کرتا ہے لیکن افسوس کہ گلگت بلتستان پاکستان کا آئینی حصّّہ نہیں۔گلگت بلتستان کا ہر فرد 23 مارچ اور 14 اگست کو ہاتھوں میں سبز ہلالی پرچم لے کر پاکستان زندہ باد کے نعرے بلند کرتا ہے۔ وہ پرچم تو پاکستان کا ہے لیکن وہ ہاتھ جو پرچم کو بلند کرتا ہے وہ پاکستانی نہیں۔
NLI کے جوان جب سرحد پر گولی کھاتے ہیںتو وہ سینہ پاکستانی کی ہوتی ہے لیکن وہ کفن میں لپٹی لاش پاکستان کی نہیں۔گلگت بلتستان کے بلند و بالا پہاڑی تو پاکستان کے ہیں اور تو اور محترمہ ثمینہ بیگ جب دنیا کے بلند ترین چوٹی سر کرتی ہے تو پاکستانی ہے، جس علاقہ سے اُس کا تعلق ہے وہ پاکستان کا حصّہ نہیں۔انیتا کریم جب بین الاقوامی ٹائٹل اپنے نام کرتی ہے تو پاکستانی میڈیا کیلئے ا نیتا کریم پاکستانی ہے لیکن اس کے علاقے کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں۔
لالک جان بھی پاکستان کا، نشانِ حیدر بھی پاکستان کا لیکن گلگت بلتستان پاکستان کا آئینی حصّہ نہیں۔CPEC پاکستان کا اور چین بھی پاکستان کا اہم ترین ہمسایہ لیکن گلگت بلتستان پاکستان کا آئینی حصّہ نہیں۔
ایک ٹی وی میزبان کے بقول گلگت بلتستان کے عوام کی کوئی کاوش نہیں، تو جواب یہ ہے کہ آپ صاحب ذرا گلگت بلتستان کی تعلیمی شرح دیکھیں، گلگت بلتستان کے حقوقِ نسواں ملاحظہ کریں۔گلگت بلتستان میں جرائم کی خاکسار شرح پر نظر دوڑائیں۔ قربانی کیلئے گلگت بلتستان، مہمان نوازی کیلئے گلگت بلتستان۔ اگر پاکستان کا خیر خواہ اس سر زمین پر کوئی موجود ہیں تو وہ سب سے پہلے گلگت بلتستانی ہیں اور انشااللہ! مستقبل میں بھی گلگت بلتستانی ہی ہونگے۔
لیکن کچھ فتنہ گروں کیلئے ا ب بھی گلگت بلتستان پاکستان کا آئینی حصّہ نہیں۔
دعا ہے کہ اللہ تعا ٰلٰی ہم سب کو وطن عزیز کی ترقی اور خوشحالی میں حصّہ ڈالنے کی توفیق عطا فرمائیں اور فتنہ پھیلانے سے باز رکھیں۔ (آمین)

تحریر: وجاہت عالم ہنزائی

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website