سکردو(پ،ر)آج مورخہ 26مارچ سال 2019 کو عوامی ایکشن کمیٹی بلتستان کا ایک اہم اجلاس زیر صدارت کنوئینر غلام شہزاد آغا دیوسائی ہوٹل اینڈ ریسٹورنٹ سکردو میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں عوامی ایکشن کمیٹی بلتستان کے دیگر ممبران نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں حکومتی اقدامات جن میں حکومتی ارکان نے غیر قانونی طریقے سے گلگت بلتستان میں پھر سے فرسودہ نمبرداری نظام کو بحال کرنے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ اجلاس میں شرکاء نے متفقہ طور جلد از جلد اس فرسودہ نظام کے خاتمے کے لئے ایک منظم حکمت عملی مرتب کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ اس نظام کے خاتمہ کے لیےمجاز قانونی فورم پر چارہ جوئی کی جا جائے گی. کمیٹی نے حکومت وقت سے فوراً سٹیٹ سبجیکٹ کی بحالی کا مطالبہ کیا. کیونکہ حکومت بندوبست کے جامع قوانین کو بالا طاق رکھتے ہوئے گلگت بلتستان کی شہریوں کے ساتھ ناروا سلوک روا رکھنا نہ صرف یہاں کے عوام کے حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ اقوام متحدہ کے قراردادوں کے سراسر منافی ہے. بلکہ ایک منظم سازش کے تحت گلگت بلتستان کی ڈیموگرافی کو بھی تبدیل کرنے کوشش ہے. ایک مخصوص طبقہ کے لوگوں کو گلگت بلتستان میں بسا کر اس جدید دور میں بھی کالونیل سسٹم رائج کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ سازشی عناصر لڑاؤ اور حکومت کرو کی پالیسی پروان چڑھا سکے.. لہذا فوری طور پر حکومت ہوش کے ناخن لیتے ہوئے گلگت بلتستان میں سٹیٹ سبجیکٹ رول کو بحال کرے تاکہ یہاں کے عوام کی محرومیوں کا ازالہ ہوسکے. عوامی ایکشن کمیٹی بلتستان نے مزید مطالبہ کیا کہ حکومت کسی بھی پس و پیش عوامی آواز کو دبانے یا تقسیم کرنے کی بجائے عوامی مسائل کو حل کریں. شرکاء اجلاس میں بشارت علی ایڈووکیٹ، محمد علی دلشاد، محمد علی مرغوب ایڈووکیٹ، محمد اقبال ایڈووکیٹ، سید انور علی، آغا عباس موسوی اور اخون غلام نے شرکت کی۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا