اسلام آباد(ویب ڈیسک/ٹی این این)بلاول بھٹوزرداری نے کہا کہ کالعدم تنظیموں کے رہنماؤں کو اس لئے حراست میں لیا گیا کہ بھارتی طیارے انہیں اڑا نہ دیں۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ حکومت آئینی اورجمہوری حق استعمال کرنے والوں پر تشدد کر رہی ہے جب کہ جنونی اور انتہاپسند قوتوں کے سامنے ہتھیار ڈال رکھے ہیں، میں کالعدم تنظیموں کے خلاف آواز اٹھا رہا ہوں، میں مطالبہ کررہا ہوں کہ حکومت کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کریں، میں ان وزرا کی بات کر رہا ہوں جن کا ان تنظیموں کے ساتھ تعلق ہے، میرے کھانے اور دھوبی کے بل کو بھی نکال لیا جاتا ہے، اگر ہمت ہے تو احسان اللہ احسان پر بھی جے آئی ٹی بنائیں، ہمیں بلایا ہے تو دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے والوں کو بھی بلائیں۔ کالعدم تنظیموں کے رہنماؤں کو اس لئے حراست میں لیا گیا کہ بھارتی طیارے انہیں اڑا نہ دیں۔ حکومت کیسے کالعدم جماعتوں کی حمایت کرنے والوں کو اپنی کابینہ میں شامل کرسکتی ہیں۔
اس سے قبل بلاول بھٹو زرداری نے نیب عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ نیب کوپیپلزپارٹی کا مینڈیٹ چوری کرنے کیلئے بنایا گیا، پیپلزپارٹی نے نیب قوانین میں تبدیلی نہیں کی، یہ ہماری غلطی تھی، مستقبل میں آئین سے آمرکا ہرقانون نکال دیں گے، آج جس کمپنی کیس میں بلایا گیا، میں اس وقت ایک سال سےبھی کم عمرتھا، میرا احتساب ایک سال سے کم عمر سے کیا جارہا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جب کالعدم تنظیموں کے خلاف بات کرتے ہیں توہمیں نوٹس ملتے ہیں، ہم بینظیرکے جیالے ہیں ان نوٹسزسے نہیں ڈرتے اورکالعدم تنظیموں کے خلاف آوازبلند کرتے رہیں گے۔
بلاول بھٹوزرداری نے کہا کہ کٹھ پتلی حکومت کوللکارتے رہیں گے، حکومت 3 وزراکووفاقی کابینہ سےفارغ کرے، ملک میں سیاسی بحران کے خلاف آواز اٹھارہا ہوں، ہم نے ہرآمریت کا مقابلہ کیا، کٹھ پتلی حکومت کا بھی مقابلہ کریں گے، بھٹو کا وعدہ نبھائیں گے، پاکستان کوبچائیں گے۔
پیشی سے قبل سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹرپرپیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے شاعرانہ انداز میں معروف شاعرحبیب جالب کی ایک نظم کے چند اشعارٹوئٹ کیئے تھے۔ بلاول کا کہنا تھا کہ میں بھی خائف نہیں تختہِ دارسے، میں بھی منصورہوں کہہ دواغیارسے، کیوں ڈراتے ہو زنداں کی دیوار سے، ظلم کی بات کو جہل کی رات کو، میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا۔
کالعدم تنظیموں کے رہنماوں کو اس لئے حراست میں لیا گیا کہ بھارتی طیارے انہیں اڑا نہ دیں۔بلاول
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا