دوحہ ( آن لائن/ٹی این این) قطر میں افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا پانچواں دور ختم ہوگیا جس میں فریقین کے درمیان دو نکات پر اتفاق ہوگیا۔دوحا میں افغان طالبان کی جانب سے مختص کردہ نمائندگان اور امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد کے درمیان مذاکرات کا پانچواں دور ہوا۔
فریقین نے طویل مذاکرات کے بعد افغانستان سے غیرملکی افواج کے انخلا اور انسداد دہشت گردی کے دو نکات پر اتفاق کرلیا۔امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کا کہنا ہے کہ دوحا میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کا دور مکمل ہوا، امن کے لیے شرائط میں بہتری آئی ہے اور اب واضح ہے کہ فریقین جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں۔دوسری جانب طالبان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ دونوں فریقین اب اپنی اپنی قیادت کو آگاہ کر کے آئندہ ملاقات کی تیاری کریں گے۔
یاد رہے کہ افغان طالبان اور امریکی حکام کے درمیان ہونے والے مذاکرات سے اب تک افغان حکومت کو دور رکھا گیا ہے کیوں کہ افغان طالبان اپنی حکومت سے بات کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ حتمی معاہدہ ہونے کے بعد طالبان کو افغان حکومت سے بات کرنی ہوگی اور باضابطہ طور پر جنگ بندی کا اعلان کرنا ہوگا۔اس سے قبل 27 جنوری 2019 کو دوحہ میں افغان طالبان اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں 18 ماہ کے اندر افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلاء پر اتفاق کیا گیا تھا۔اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا تھا کہ جنگ بندی کا شيڈول آئندہ چند روز میں طے کیا جائے گا جبکہ طالبان جنگ بندی کے بعد افغان حکومت سے براہ راست بات کریں گے۔
(1/4) Just finished a marathon round of talks with the Taliban in #Doha. The conditions for #peace have improved. It’s clear all sides want to end the war. Despite ups and downs, we kept things on track and made real strides.
— U.S. Special Representative Thomas West (@US4AfghanPeace) March 12, 2019
More Stories
ڈیموکریٹک کے امیدوار جو بائیڈن امریکہ کے 46ویں صدر منتخب
دنیا کے امیر ترین شخص کے اثاثوں میں ایک دن میں کتنا ڈالرز کا اضافہ ہوا جان کر حیران ہونگے
دیامر بھاشا کے حوالے سے بھارتی بیان کا چین کے دفتر خارجہ نے بڑا بیان جاری کردیا