گلگت ( تحریر نیوز) گلگت بلتستان کے ایک صحافی نے ایک سال پہلے نجی انگریزی جریدے میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وزیراطلاعات گلگت بلتستان سمیت متعدد اراکین قانون ساز اسمبلی اور جی بی کونسل کے اراکین ویمن ٹریفکنگ کے گھناونے کھیل میں ملوث ہیں۔ انہوں نے ابتدائی طور پر ثبوت بھی منظر عام پر لائے تھے۔ اس کے ردعمل میں مقامی حکومت نے تحقیقاتی کمیٹی کا ڈھونگ بھی رچایا تھا اور مذکورہ صحافی کو عدالت میں گھسیٹنے کی دھمکیاں بھی دی تھیں۔ ایک عرصہ مذکورہ صحافی اور حکومت کے مابین بیانات کا تبادلہ ہونے کے بعد اچانک دونوں منظر سے یکسر غائب ہوگئے ہیں۔ انگریزی اخبار کے مذکورہ صحافی کے سنگین الزامات کے بعد حکومت کی مجرمانہ خاموشی بھی سوالیہ نشان ہے۔ دوسری طرف ذرائع کے مطابق صحافی نے اس الزام کی مکمل طور پر تردید کی ہے، جس میں بتایا گیا تھا کہ اسے منہ بند رکھنے کے لیے تین کروڑ روپے دیے گئے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ صحافیوں کا کام حقائق کو منظر عام پر لانا ہے، اب ان مجرموں کو سزا دینے کے لیے ریاستی ادارے اور عدالتیں موجود ہیں۔ دوسری طرف وزیر اطلاعات گلگت بلتستان اقبال حسن کی جانب سے اُن کے خلاف ایک دینور تھانے میں مقدمہ درج کیا تھا لیکن موصوف صحافی سیکورٹی کا بہانا بنا کر تھانے میں پیش نہیں ہوئے۔ آج انسداد دہشتگردی کی عدالت نے اُن نہیں نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ7 اکتوبر تک عدالت میں حاضر ہو کر کیس کی پیروی کریں۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا