گلگت(پ ر) سپریم اپلیٹ کورٹ گلگت بلتستان میں چیف جج کی تعیناتی میں تاخیر سے سائلین کو دبدر کا سامنا۔ چیف جسٹس سپریم اپیلٹ کورٹ کی پوسٹ پچھلے نو مہینوں سے خالی ہے اور اس کے نتیجے میں اس بڑی عدالت کے ہزاروں سائلین انصاف کے حصول کے لیے دربدر ہو رہے ہیں۔معزز عدالت میں زیر سماعت کیسز کے متاثرین خصوصا محکمانہ پروموشن سے متاثرہ اساتذہ نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان اور گورنر گلگت بلتستان سے جی بی عوام کی طرف سے درخواست ہے کہ ان کی حکومت فوری طور پر سپریم اپلیٹ کورٹ گلگت بلتستان کیلئے چیف جج کا تقرر کرے ورنہ جی بی میں پی ٹی آئی حکومت کی مقبولیت نہ صرف کم ہوگی بلکہ جج کے تقرر کے حوالے سے تاخیر ہونے کی صورت میں وسیع پیمانے پر احتجاج بھی ہو گا. اس حوالے سے صورت حال کچھ یوں ہے کہ سپریم اپلیٹ کورٹ گلگت بلتستان میں چیف جج کی جگہ پچھلے نو مہینوں سے خالی ہے اور اس کے نتیجے میں اس بڑی عدالت کے ہزاروں سائلین انصاف کے حصول کے لیے خوار ہو رہے ہیں. لیکن یہاں یہ بات ناقبل فہم ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت جس کی تحریک کی بنیاد اور دعوی انصاف پر ہو اس اہم مسئلے کی طرف بے توجہی ، بے اعتنائی اور نا انصافی برت رہی ہے. سنے میں آیا ہے کہ چیف جج سپریم اپلیٹ کورٹ گلگت بلتستان کی تعیناتی جی بی کو ملنے والے نئی آئینی پیکیج کی منظوری اور نفاز تک نہیں ہو گی آگر معاملہ ایسا ہے تو یہ بلکل نا انصافی ہو گی.لوگ عمران خان پر اعتماد کرتے ہیں لیکن وہ بھی آگر انصاف کی فراہمی میں غفلت برتیں تو عوام نا انصافی کے بنھور میں مزید پنھس جائیں گے لہذا وزیر اعظم اور گورنر گلگت بلتستان اس مسئلے کا فوری اور درمیانی حل نکالیں.
سپریم اپلیٹ کورٹ جی بی میں چیف جج کی تعیناتی کے عمل میں تاخیر ، زیر سماعت مقدمات مسلسل التواء کا شکار ۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا