گلگت(ٹی این این) کنوداس سے سکارکوئی پبلک ٹرانسپورٹ کیلئے متعین سوزوکی سٹین پر آرمی کی نگرانی میں قبضہ اور 24 گھنٹے کے اندر دیوار لگا کر بند کرنا قابل مذمت عمل ہے. عوام کو ریلیف دینے کے بجائے مشکلات میں اضافہ کرنے والوں کا محاسبہ ہونا چاہیئے. کنوداس کے روڈ پہلے سے تنگ ہیں ایسے میں 15 فٹ زمین پر بھی قبضہ مزید مشکلات کا باعث بنے گا. ان خیالات کا اظہار مولانا سلطان رئیس نے اپنے بیان میں کیا انہوں نے مزید کہا کہ سکارکوئی گلگت شہر کا پسماندہ ترین علاقہ ہے جہاں کے منتخب ممبران سے لیکر حکومتی افراد تک سب نے اس علاقے کا سودا کیا ہے اب عسکری اداروں کی نگرانی میں اس طرح کے اقدامات مزید مایوسی میں اضافہ کررہی ہیں. انہوں نے کہا کہ گلگت شہر سے 1200 سو گھرانوں پر مشتمل علاقے کے طرف پہلے سے پبلک ٹرانسپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے لوگ پریشان تھے اب سوزوکی سٹینڈ پر قبضہ سمجھ سے بالاتر ہے. انہوں نے متعلقہ حکام سے اپیل کیا ہے کہ فوری طور پر اس کا نوٹس لیتے ہوئے مذکورہ جگے پر سوزوکی سٹینڈ قائم کرایا جائے. انہوں نے کہا کہ سکارکوئی کا اکلوتا روڈ موت کا کنواں بن چکا ہے جس پر صوبائی حکومت کی عدم توجہی سے عوام اشتعال پیدا ہوا ہے مزید جلتے پر تیل کا کام کرنے کے بجائے عوام کو ریلیف دیا جائے اور متعلقہ ممبر اسمبلی آپ نے بینک بیلنس بنانے سے اگر فارغ ہوئے ہوں تو اس طرف بھی توجہ دیں اور علاقے سے حاصل ووٹ کا حق ادا کرے بدقسمتی سے یہ وہ علاقہ ہے جہاں کے لوگوں نے ہر ممبر کو کھل کر ووٹ دیا ہے اور ہر ممبر نے اسی طرح یہاں کے عوام کو دیوار سے لگایا ہے.
گلگت کنوداس – سکارکوئی سوزوکیااڈا بند، مولانا سلطان رئیس کا سنگین الزام۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا