صوبائی حکومت نے تمام سرکاری ہسپتالوں کونجی ادارے کے حوالے کرنے کا فیصلہ کردیا ہے جس کے لئے تیاریاں بھی مکمل کردی ہیں ہسپتالوں کو مرحلہ وارنجی ادارے کے حوالے کردیاجائے گا ابتدائی طورپرضلع نگر،ہنزہ،غذرکے تمام چھوٹے اوربڑے ہسپتال عمارت اورسازوسامان کے ساتھ نجی ادارے کے حوالے کیاجائے گادوسرے اضلاع کی باری مرحلہ وارآئے گی اس سلسلے میں ایک اہم اجلاس بھی سیکرٹری صحت کی صدارت میں منعقد ہونے اور نجی ادارے کے نمائندوں نے شرکت کی اطلاع ہے ذرائع کے مطابق اجلاس میںابتدائی طورپر مذکورہ بالا اضلاع کے ہسپتالوں کی حوالگی اورحتمی منظوری کے لئے سفارشات وزیراعلیٰ کو ارسال کرنے پراتفاق ہواہے منظوری اورہسپتالوں کی نجی ادارے کو حوالگی کی صورت میں مفت علاج کی سہولیات ختم ہوجائیں گی۔گلگت بلتستان میں سرکاری ادارے اپنی ذمہ داریاں ادانہیں کررہے اشرفیہ ا ورمافیاکے علاوہ غریب عوام کسی بھی ادارے سے خوش نہیں ہیں حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ماتحت چلنے والے محکموں کی کارکردگی بہتربنانے کے لئے عملی اقدامات کرے زبانی جمع خرچ اوردعوئوں سے کبھی بھی کارکردگی بہترنہیںہوگی نہ عوام کے مسائل حل ہونگے اس وقت تمام محکموں میں کرپشن عروج پرہے محکمہ تعمیرات میں ٹھیکوں کی بندربانٹ سے ہرکوئی واقف ہے متعلقہ افسرکی جیب گرم کئے بغیربل پاس نہیں ہوتااسی طرح محکمہ تعلیم میں بے وقت کے سیاسی اورانتقامی تبادلے جاری رہتے ہیںجب سے ڈسٹرکٹ کونسلوں کے ڈپٹی کمشنرزایڈمنسٹریٹربنے ہیں چھوٹی سکیمیں اقرباء پروری اوراثرروسوخ والے افراد کی نذرہورہی ہیںکئی گائوں اورعلاقے ایسے ہیں جہاں گزشتہ دس سال سے ایک بھی سکیم نہیں رکھی گئی ہے جبکہ کئی علاقے اورگائوں ایسے ہیں جہاں کی گلی اورچھوٹے چھوٹے واٹرچینل کے لئے بھی سیکمیں رکھی گئی ہیں اس کے علاوہ اوربھی ان گنت اوربے شمارمسائل ہیں جن کے حل سے عوام کو ان کی دہلیزپرسہولیات مل سکتی ہیں لیکن متعلقہ ادارے ذمہ داری اداکرنے کے بجائے سب اچھا کی رپورٹ پیش کرنے میں مصروف ہیں اس سے عوام کے مسائل بڑھ رہے ہیںاب تک عوام کے مسائل حل کرنے یا اپنی ذمہ داری اداکرنے میں کوتاہی برتنے والے کسی بھی ذمہ داریا اہلکارکو گوشمالی نہیں ہوئی جس کی وجہ سے ہرادارہ پدرمادرآزاد بن گیاہے گلگت بلتستان ایک پسماندہ اورغریب علاقہ ہے عوام سہولیات سے محروم ہیں عوام کے مسائل حل کرنا اوران کو درپیش مشکلات کودورکرنے کے لئے اقدامات کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے اب دیکھنا یہ ہوگا کہ اداروں کی کارکردگی کس طرح بہتر ہوگی اس کے لئے کیا کرنا ہوگا اورعوام کو ان اداروں سے کیسے فائدہ پہنچتاہے سرکاری اداروں کے ملازمین کو مفت کی روٹیاں توڑنے کی عادت پڑگئی ہے تو اس عادت سے چھٹکارادلانے کے لئے عملی اقدامات کی ضرورت ہے پولیس کی تنخواہ دوگنی ہے دیگرمراعات الگ ہیںاسی طرح جب سے گلگت بلتستان انتظامی طورپرصوبہ بن گیا ہے سرکاری سکولوں کے اساتذہ کی تنخواہوں اورمراعات میں اضافہ ہواہے ترقی سے ناامید اساتذہ کو ترقی مل گئی اسی طرح محکمہ برقیات کے ملازمین کو رسک الائونس ملنے لگا ہے محکمہ صحت کے ملازمین کو بھی مراعات مل رہی ہیں جن سے وہ پہلے محروم تھے محکمہ بی اینڈ آراورمحکمہ برقیات میں ضرورت سے زیادہ ملازمین بھرتی ہوئے ان کو بھی تنخواہیں بروقت مل رہی ہیںاس کے باوجودان محکموں کی کارکردگی میں ایک فیصد بھی اضافہ نہیں ہوااسی طرح دیگرکئی محکمے ایسے ہیں جن سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہے ان محکموں کی کارکردگی بہترکرنے کے لئے اقدامات کرنا یا سخت فیصلہ کرنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے راقم نے اپنی زیرادارت شائع ہونے والے والے اخبارکے اداریہ میں متعدد بارمحکمہ تعلیم اورصحت کی نجی کاری کامشورہ دیا تھا دیرآید درست آید کا مصداق صوبائی حکومت نے ابتدائی طورپرمحکمہ صحت کی کارکردگی بہترکرنے کے لئے نجی ادارے کو دینے کا فیصلہ کیا ہے خداکرے خبرسچ ثابت ہواوراس پرعملدرآمد ہو۔ نجی کاری کا مقصد ہی نقصان میں چلنے والے ادارے کو منافع بخش بنانا ہوتاہے نقصان میں رہنے والے اداروں کی نجی کاری سے عموماًادارے کی کارکردگی میں بہتری آتی ہے اورادارہ کچھ عرصے میں منافع بخش بن جاتاہے قارئین کے ذہن میں سوال ابھرے گا کہ صحت اورتعلیم کے محکموں سے کیامنافع حاصل ہوگا؟ اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ محکمہ کی کارکردگی بہترہوگی تو عوام کوصحت کی سہولیات ملیں گی اسی طرح محکمہ تعلیم کی کارکردگی بہترہوگی توتعلیم کامعیاربہترہوگایہی اصل میں منافع ہیںجس سے اب تک عوام محروم چلے آرہے ہیں۔دونوں محکموں کی کارکردگی عوام کے سامنے ہے سرکاری سکولوں کے اساتذہ بھاری بھرکم تنخواہ لیتے ہیں وسیع وعریض عمارت اوردیگرسہولیات حاصل ہونے کے باوجود کارکردگی انتہائی مایوس کن ہے جبکہ نجی تعلیمی اداروں میں سہولیات نہیں ہیں اساتذہ بھی قلیل تنخواہ میں خدمات سرانجام دیتے ہیں اس کے باوجود ان نجی تعلیمی اداروں کی کارکردگی شاندارہوتی ہے اس وقت انجینئرنگ اورمیڈیکل کے شعبے میں نجی تعلیمی اداروں سے فارغ ہونے والے طلبہ ہی کوالیفائی کرتے ہیں نجی تعلیمی اداروں کی بھاری فیس اورسرکاری تعلیمی اداروں کی خراب کارکردگی کا خمیازہ غریب عوام کے بچوں کو بھگتناپڑرہاہے سرکاری مایوس کن کارکردی کے باعث علاقے میں طبقاتی نظام تعلیم مضبوط ہوتاجارہے حکومت نجی کاری کرتے وقت ایسا کوئی فارمولہ طے کرے جس سے غریب والدین کے بچوں کیلئے بھی معیاری تعلیم کا حصول آسان ہواسی طرح محکمہ صحت کی نجی کاری کی صورت میں اس کی کارکردگی بہترہوگی کیونکہ نجی اداروں میں تساہل پسند اورمفت کی روٹی توڑنے والے لوگوں کے لئے کوئی جگہ نہ ہوتی اس طرح ہرکوئی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے لگیں گے جس کا فائدہ غریب عوام کو ہوگا۔ ابتدائی طورپران محکموں میں موجود مافیا کی مخالفت ہوگی اس کا پرواہ کئے بغیرحکومت کو ابتدائی طورپرمذکورہ بالا اداروں کی نجی کاری کی طرف توجہ دینی ہوگی اس کے بعد مرحلہ واردیگراداروں کی بھی نجی کاری کی جائے تاکہ عوام کو بہترسے بہترسہولیات مل سکیں۔وفاقی حکومت میں جب پی ٹی سی ایل کی نج کاری کا فیصلہ کیا تو شروع میں سب نے مخالفت کی لیکن بعد میں عوام کو پتہ چلاکہ فیصلہ درست تھا اورعوام فائدے میں رہے نجی کاری سے پہلے پی ٹی سی ایل کے بارے مشہورہے کہ کسی نے فون لائن کے لئے درخواست دی اور گھرآیا تو اس کے ہاں بیٹا پیداہواتھالیکن فون کی منظوری اس کو بیٹے کی شادی کے دن ملی۔شاید اس کی درخواست پرعملدرآمد کے لئے کم ازکم بیس سال لگے اس سے یہ بھی اندازہ ہوتاہے کہ کئی لوگ گھرمیں فون لگانے کی حسرت دل میں لئے اس دنیا سے چل بسے ہونگے ۔نجی کاری کے بعد آج کل پی ٹی سی ایل عملہ کی کارکردگی دیکھیں فون لائن اورانٹرنیٹ کی سہولیات وغیرہ ا یک کال کی دوری پرہے۔
تحریر: حبیب اللہ آل ابراہیم
گلگت بلتستان کے سرکاری ہسپتالوں کی نجکاری ۔۔۔
More Stories
شاہراہ بلتستان ،شاہراہ قراقرم کی زبوں حالی اور سیاحت کا مستقبل۔
دیرینہ کارکنوں کی قربانیاں اور سیاسی جماعتیں
اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کا مقدمہ ہے یا نہیں ؟