مگس کو باغ میں جانے نہ دیجو۔۔۔۔

0 0

مگس شہد کی مکھی کو کہتے ہیں وہ باغ میں جاکرپھولوں سے رس چوستی ہے کچھ رس موم میں بدل جاتا ہے جس سے چھتہ بنایاجاتاہے اورکچھ رس شہد میں بدل جاتاہے جب چھتہ توڑا جاتاہے تو شہد کو موم سے الگ کیا جاتاہے۔موم سے شمع بنتی ہے اورجب شمع جلتی ہے تو پروانہ اس کے گرد گھومنے لگتاہے اورشمع کی آگ کی تپش کی وجہ سے وہ جل جاتاہے اب پروانے کو جلنے سے بچانے کاواحد حل یہ ہے کہ مکھی کو ہی باغ میں گھسنے ہی نہ دیاجائے اس سے یہ ہوگاجب مکھی جب باغ میں جائے گی ہی نہیں توپھولوں کی رس نہیں چوسے گی جب رس نہیں چوسے گی تو چھتہ نہیں بنے گااس طرح موم بھی نہیں بنے گاجب موم نہیں بنے گا تو تو شمع نہیں بنے گی جب شمع نہیں بنے گی تو جلے گی بھی نہیں جب شمع نہیں جلے گی تو پروانہ اس پرلپکے گانہیںجب پروانہ لپکے گا نہیں تووہ ناحق جلے گابھی نہیں ۔آج کل محکمہ برقیات کے بارے میں پورے گلگت بلتستان کے عوام میں شدید غم وغصہ پایاجارہاہے اس کی اصل وجہ محکمہ برقیات کی اپنی ذمہ داریوں سے پہلوتہی ہے اس پرمستزاد انتظامی افسران جلتی پرتیل کا کام کررہے ہیںحال ہی میں سب ڈویژن مشہ بروم کے گائوں دم سم میںواقع بجلی گھرکے واٹرچینل سے زائد پانی سڑکوں پرچھوڑنے کے باعث برف جمنے سے عوام مسائل کاشکاررہے اس کے علاوہ بجلی سے عوام کوکئی دنوں تک محروم رکھا جس پرعوام نے بجلی کی فراہمی اورپانی سڑکوں پرنہ چھوڑنے کا مطالبہ کیا تو محکمہ برقیات کے ملازمین بپھرگئے اس پرعوام سڑکوں پرآئے اورمحکمہ برقیات کے خلاف نعرے بازی کی یہاں یہ ذکرکرتاچلوں کہ کچھ لڑکوں نے پاورہائوس میں گھس کرمحکمہ برقات کے ملازمین کو زدوکوب کرنے کی کوشش کی تھی جو کہ قابل مذمت ہے حقوق کے لئے آوازاٹھانا اپنے حق کے لئے سڑکوں پرآنا عوام کا بنیادی اورجمہوری حق ہے اس سے انکارکیاجاسکتاہے نہ روکا جاسکتاہے مگراحتجاج کے آڑمیں سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا یا ذمہ داروں پرہاتھ اٹھانا مسئلے کا کسی صورت حل نہیں ہے عوام کے احتجاج کے بعد اسسٹنٹ کمشنرمشہ بروم نے عوام سے احتجاج نہ کرنے کا جبری تحریری وعدہ لیاانتظامیہ کی ذمہ داری جہاں امن قائم رکھنا ہے وہاں عوام کے مسائل کے حل کے لئے اقدامات کرنا بھی ذمہ داری میں شامل ہے مگراسسٹنٹ کمشنرنے عوام کے مسائل حل کرنے اورکوتاہی کامرتکب ہوکرعوام کو سڑکوں پرلانے کی وجہ بننے والے محکمہ کے ملازمین کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے غریب عوام سے ان کا جمہوری اوربنیادی حق چھیننے کی کوشش کی جو کہ قابل مذمت ہے اگرمحکمہ برقیات والے بروقت بجلی کی فراہمی کو یقینی بنائے تو عوام کی طرف سے احتجاج کرنے خون جمادینے والی شدید سردی میں سڑکوں پرآنے کی نوبت ہی نہ آتی ہے جس طرح پروانے کاناحق خون ہونے سے بچانے کے لئے مگس کو باغ میں جانے سے روکنے کا مشورہ دیا گیااس طرح عوام کو سڑکوں پرآنے سے روکنے کے لئے ہرادارے کو اپنی ذمہ داریاں بخوبی انجام دینے پرپابند کیاجاناچاہئے یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ محکمہ برقیات کے ذمہ داران بجلی کی فراہمی میں دل کھول کرسستی اورکاہلی سے کام لیتے ہیں مشہ بروم کے انتظامی سربراہ کو عوام کو احتجاج سے روکنے کیلئے تحریری وعدہ لینے کے بجائے محکمہ برقیات کے ذمہ داروں سے بجلی کی فراہمی یقینی بنانے اوراس سلسلے میں کوتاہی نہ کرنے کا وعدہ لیناچاہتے تھادراصل کچھ ادارے جان بوجھ کرعوام میں بے چینی پیداکررہے ہیں گزشتہ دنوں چلاس کے ایک شہری محمود عالم میرنے فیس بک کی اپنی وال پرکچھ اس طرح لکھا تھا من وعن قارئین کی نذرکردیتاہوں”ادارے بدامنی چاہتے ہے۔۔۔چلاس محلہ بٹوکوٹ۔۔۔۔سنگلی ہیٹ کے عوام تقریباًایک ہفتے سے بجلی سے محروم۔۔۔۔ہفتہ پہلے ٹانسفارمر اٹھایاگیا۔۔مگرابھی تک غائب ہے ۔۔۔جب تک عوام کامجموعہ جلسے کی شکل میں دفتر نہ پہنچ جائے ادارے خاموش رہتے ہیں۔۔۔عوام چاہتی ہے کہ بغیرکسی نقصان اوربدامنی کے ادارے کام کرے۔۔۔مگرادارے بدامنی چاہتے ہیں”۔اس پوسٹ سے سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ یہاں غلطی کس کی ہے اورعوام کو احتجاج کرنے پرکون اکسارہاہے علاقے میں جب تک احتجاج نہ کیاجائے عوام کے مسائل حل نہیں ہوتے عوام کو پاگل کتے نے کاٹاہے کہ وہ کام کرنے والے ادارے کے خلاف احتجاج کرے گلگت بلتستان کے عوام کا کبھی یہ شیوہ نہیں رہاہے تاریخ گواہ ہے ہربارسرکاری محکموں کو مشکل پیش آئی عوام نے مدد سے دریغ کیا نہ کبھی پیچھے ہٹا سرکاری ملازمین کو یہ احساس ہی نہیں ہے کہ سرکار عوام کے کام کرنے ان کے مسائل کے حل کرنے کے لئے ان کو تنخواہ دیتاہے ہرادارے کا آوئے کا آوابگڑاہواہے پٹواری جیب گرم کئے بغیرجائزکام بھی نہیں کرتاٹھیکیداروں سے رقم بٹورے بغیرمحکمہ تعمیرات کے ذمہ داران بل پاس نہیں کرتے حتیٰ ٹینڈرکے حصول کے لئے پیشگی رقم کی ادائیگی ضروری ہوتی ہے اسی طرح اے جی پی آرکی کہانیوں سے کون واقف نہیں ۔کھرمنگ کے عوام گزشتہ دنوں پانی کی فراہمی نہ ہونے کی وجہ سے سڑکوں پرنکل آئے ڈپٹی کمشنرکھرمنگ نے اے سی مشہ بروم کی طرح معاملے کو بھگاڑنے بجائے متعلقہ محکمہ کو فوری پانی کی فراہمی یقینی بنانے کے احکامات جاری کئے جس سے مشتعل عوام منتشرہوگئے ۔کھرمنگ ،مشہ بروم ،چھوربٹ کے عوام سرحدوں کے دفاع میں پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں ان کے مسائل کے حل کے لئے اقدامات کرنا جہاں حکومت کی اولین ذمہ داری ہے وہاں انتظامی امورکی انجام دہی میں ناکامی کا سامناکرنے اورعوام میں اشتعال پھیلانے والے سرکاری افسران کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جانی چاہئے اسی طرح تمام سرکاری محکموں کو اپنی ذمہ داریاں نبھانے، بخوبی اداکرنے پرپابند کیاجائے اگرتمام ادارے اپنی ذمہ داریاں اداکرنے لگیں تو کوئی وجہ نہیں کہ عوام سڑکوں پرنکل آئیں کیونکہ گلگت بلتستان کے عوام پرامن ہیں وہ کبھی بدامنی نہیں چاہتے
مگس کو باغ میں جانے نہ دیجو
کہ ناحق خون پروانے کاہوگا

تحریر:حبیب اللہ آل ابراہیم

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website