چلاس(محمد قاسم)انسپکٹر جنرل آف پولیس گلگت بلتستان ثناءاللہ عباسی نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں سوشل میڈیا کے 200 کے قریب جعلی، بے نامی اور مسلکی منافرت پھیلانے والے اکاونٹس کو بند کرنے کے لئے ایف آئی اے سے مدد مانگ لی گئی ہے۔جس کے بعد کرمنل کورٹ ایکٹ کے تحت کاروائی کا آغاز کیا جائگا۔اور مذہبی منافرت پھیلانے والے عناصر کو نشان عبرت بنایا جائگا۔چلاس میں سوشل میڈیا مانیٹرنگ سیل و شکایات سیل کی افتتاحی تقریب کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا میں منفی رجحانات کو قابو پانےاور مثبت سوچ کو فروغ دیا جائگا۔سوشل میڈیا کی اہمیت اور افادیت سے کوئی انکاری نہیں مگر اس کے غلط استعمال کرنے والوں کو لگام اور حوصلہ شکنی کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ منفی رجحانات کو قابو پانے اور مثبت سوچ کو فروغ دیا جائگا۔اور ہم ان تمام معاملات کو اپنی نگرانی میں بہتری لانے کے لئے تمام تر اقدامات کر رہے ہیں۔اور پولیس کے جوانوں پہ مشتمل ایک ٹیم ایسے جعلی اور بے نامی اکاونٹس کی نگرانی کر رہی ہے۔ پولیس سوشل میڈیا ٹیم کی ٹریننگ اور مزید تکنیکی معاونت کو پورا کر کے ان کو مزید مستحکم کر دیا جا یگا۔انہوں نے کہا انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان ایک پرامن علاقہ ہے اور ایک مہذب قوم کا خطہ ہے یہاں کی معیشیت کا دارومدار سیاحت پہ ہے۔ دیامر کو گلگت بلتستان کو گیٹ وے کی حیثیت حاصل ہونے کی وجہ سے 53 فیصد سیاحوں کا داخلہ دیامر سے ہے ۔محکمہ سیاحت کے تعاون سے سیاحوں کی بہتری اور حفاظت کے لئے ٹوریزم پولیس کا قیام عمل میں لایا گیا ہے پولیس کی گاڑیاں سیاحتی روڈ پہ گشت کریں گے جس سے سیاحوں کو درپیش خطرات اور مسائل کے حل میں آسانی رونما ہوگی۔جو خطے کی بڑھتی ہوئی سیاحت کی مزید فروغ کے لئے دور رست نتائج برآمد کرنے میں معاون ثابت ہوگا اور خطہ سیاحتی اعتبار سے ترقی کرے گا اور اس کے ثمرات سے پورا جی بی مستفید ہوگا۔انہوں نے کہا کہ دیامر میں تعلیم کی پسماندگی کو مدنظر رکھتے ہوئے چلاس شہر میں ایک پولیس سکول کا قیام عمل میں لایا جائگا۔جس کو ایک پالیسی کے تحت اور ایک منظم اور بہتر طریقے سے ایک مثالی درسگاہ بنایا جائیگا۔ اس موقع پہ اے آئی جی کرائم برانچ گلگت بلتستان اسحاق حسین نے کہا کہ دیامر میں سکولوں کو جلانے کے واقعے میں مخلتف تھانوں میں درج تین ایف آئی آر کے مطابق اکثر افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور جو عناصر قانون سے روپوش تھے جن کی تعداد اب بہت کم ہے کو مفرور قرار دیا گیا ہے ان عناصر کو قانون کی گرفت میں لانے کے لئے مقامی جرگہ سے مدد لی جا رہی ہے۔اور ایک منظم اور پائیدار حکمت عملی کے تحت ان کو گرفتار کر قانون کے کٹھرے میں لایا جائگا۔
گلگت بلتستان میں سوشل میڈیا کا غلط استعمال کرنے والوں کو نشان عبرت بنا نے کا فیصلہ ۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا