ہنزہ(ٹی این این)گلگت بلتستان کے ضلع ہنزہ میں 3 ماہ کے دوران شسپر گلیشیئر 1 ہزار 750میٹر تک سرک گیا۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق اب بھی یہ گلیشیئر روزانہ 7 میٹر سرک رہاہے اور تین ماہ میں یہ اپنے مقام سے 1750میٹر آگے آچکا ہے۔ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے بتایا کہ 1300 میٹر چوڑا اور 600 فٹ لمبا برف کا یہ پہاڑ مسلسل آبادی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی سیٹلائٹ کے ذریعے مسلسل اس گلیشیئرکی نگرانی کر رہی ہے۔شسپر گلیشیئر کے سرکنے سے پانی کا بہائو بھی رک گیا جس کے باعث حسن آباد کے 2 بجلی گھروں سے بجلی کی ترسیل مکمل بند ہے اور ہنزہ کی 70فیصد آباد بجلی سے محروم ہو چکی ہے، متبادل کے طور پر علاقے میں جنریٹر سے 2 گھنٹے کے لیے بجلی دی جاتی ہے۔سرکنے کے عمل سے قریبی آبادی کو خطرہ ہے، جبکہ گرمیوں میں جھیل سے پانی کے اخراج کے باعث سیلاب آنے کا بھی امکان ہے۔ڈائریکٹر ڈی ایم اے کے مطابق انتہائی خطرے کے لیے تیاری مکمل کرلی گئی ، ممکنہ خطرے کے پیش نظر 72 گھرانوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا جبکہ آبادی کو گلیشئر اور سیلاب سے بچانے کے لیے حفاظتی بند بنانے کا کام بھی شروع کر دیا گیا ۔ڈائریکٹر جی بی ڈی ایم اے کے مطابق متبادل سڑک کی مرمت اور پل بنانے کا انتظام بھی کرلیا گیا جبکہ کسی بھی خطرے کے پیش نظر ہنزہ میں خوراک کا بھی ذخیرہ کیا گیا ۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا