گلگت (ٹی این این ) عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان میں گلگت بلتستان ایک تاریخی عوامی جلسے کا انعقاد کیا۔ جلسے سے عوامی ایکشن کمیٹی مرکزی قیادت وائس چیئرمین فدا حسین ، جنرل سیکر یٹری پروفیسر سید یعصوب الدین ،امام جمعہ والجماعت موتی مسجد مولانا خلیل قاسمی اور معروف عالم دین شیخ نیئر عباس مصطفوی،جمیعت علما اسلام ضلع گلگت کے امیر منہاج الدین سمیت دیامر یوتھ کے رہنما شبیر قریشی اورمشتاق احمد، راجہ میر نواز، محمد ابراہیم اور دیگر نے کیا۔مقررین نے جو ڈیشل آرڈر 2019کو مسترد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اور فوری طور پر گلگت بلتستان کے متنازعہ حقوق کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا، مقررین نے بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے لئے ہینزل اور سکارکوئی پاور پراجیکٹ پہ فوری طور پر کام شروع کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔مقررین کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کے بعد آئینی حیثیت کے حوالے سے گلگت بلتستان میں سیاسی طورپر جوابہام تھا ختم ہوچکا ہے لہٰذا وفاق سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کے تناظر میں گلگت بلتستان کو بنیادی حقوق فی الفور فراہم کرے۔ مقررین نے خطاب کرتے ہوئے مطالبہ کیا اہم ریاستی امورکے علاوہ دیگر تمام اندرونی اختیارات گلگت بلتستان اسمبلی کو منتقل کئے جائیں ۔آزادعدلیہ کے قیام کیلئے آزاد کشمیر میں موجود سپریم کورٹ کی طرز پر باوقار عدلیہ کا سیٹ اپ دیا جائے اور تمام حکومتی شعبہ جات میں وفاق کی جانب سے آنے والے بیورو کریٹس کا ناجائز کوٹہ ختم کرتے ہوئے گلگت بلتستان کے بے روزگار نوجوانوں کو روزگار کا مواقع فراہم کئے جائیں ۔فورتھ شیڈول اور انسداد دہشت گردی کے تحت زبان بندی کرنے کی ظالمانہ روش کو ترک کرتے ہوئے عوامی ایکشن کمیٹی اور دیگر سیاسی و قومی جماعتوں کے ذمہ داران پر لگائے گئے الزامات کو ختم کیا جائے گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کو فوری طورپر بحال کرتے ہوئے اسے قانونی تحفظ دیاجائے اور متنازعہ خطوں میں جاری تمام اشیاء پر سبسڈیز کو گلگت بلتستان میں بھی فوری بحال کیا جائے۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا