اسلام آباد(ویب ڈیسک/ٹی این این) سپریم کورٹ نے اصغر خان عمل درآمد کیس میں ملوث افسران کے خلاف 4 ہفتے میں انکوائری مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 3 رکن یبنچ نے اصغر خان عملدرآمد کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا کورٹ مارشل کارروائی کیوں نہیں شروع ہوئی، نوے کی دہائی میں بانی متحدہ اور ایم کیو ایم کو بھی پیسے ملے تھے، کیس میں ان کا نام سامنے آیا نہ ہی ایف آئی اے رپورٹ میں میں کوئی ذکر ہے۔
اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ایف آئی اے رپورٹ میں بانی ایم کیو ایم کا نام تھا، وہ اب پاکستان میں نہیں، متحدہ بانی اور دیگر ملزمان کی حوالگی کیلئے برطانیہ سے بات چیت جاری ہے، جس میں بہت جلد اہم پیشرفت متوقع ہے۔جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ایف آئی اے تو ہاتھ کھڑے کرنا چاہتا ہے۔ عدالت نے مقدمے کی مزید سماعت 4 ہفتوں کیلئے ملتوی کر دی۔
اصغر خان عمل درآمد کیس،سپریم کورٹ نے ملوث افسران کے خلاف رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا