گلگت (پریس ریلیز) گلگت بلتستان کے معذور افراد صوبائی حکومت کی جانب سے فوری طور پر آرڈیننس کے ذریعے سرکاری ملازمتوں میں معذور افراد کے لئے مختص کوٹہ کو 2 فیصد سے بڑھا کر 3 فیصد کئیے جانے کے اقدام کو سختی سے مسترد کرتے ہیں اور واضع کرتے ہیں کہ معذور افراد 5 فیصد سے کم کوٹہ پر ہرگز رضامند نہیں ہونگے، وفاقی سطع پر معذور افراد سے متعلق مجوزہ قانون سازی کے ڈرافٹ میں بھی کوٹہ کو بڑھا کر 5 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے اس کے علاؤہ بلوچستان اور سندھ اسمبلی میں بھی قانون سازی کے ذریعے کوٹہ کو بڑھا کر 5 فیصد کیا ہے جب کہ دیگر صوبوں میں بھی 5 فیصد کے لئے قانون سازی کا عمل جاری ہے، گلگت بلتستان کے معذور افراد نے انتہائی نا مساعد حالات کے باوجود متعلقہ حکام کے ساتھ انتھک محنت کرتے ہوئے کوٹہ کو بڑھا کر 5 فیصد کرنے سے متعلق ڈرافٹنگ کروائی تھی جس سے نظر انداز کیا جانا ہرگز قابل قبول نہیں اور معذور افراد کسی بھی صورت 5 فیصد سے کم کوٹہ پر کمپرومائز نہیں کریںنگے، معذور افراد صوبائی حکومت کی جانب سے صحت کارڈز فراہم کرنے سے متعلق دعویٰ کو بھی سختی سے مسترد کرتے ہیں اور واضع کرتے ہیں کہ گلگت بلتستان کے ایک بھی معذور فرد کو صوبائی حکومت کی جانب سے کسی قسم کے صحت کارڈز کا اجرا نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی صوبائی حکومت کی جانب سے معذور افراد کے لئے منظور شدہ پی سی ون میں صحت کارڈز کے لئے کوئی رقم مختص کی گئی ہے، لہذا معذور افراد واضع کر دینا چاہتے ہیں کہ حکومت غلط بیانیوں سے کا لیتے ہوئے معذور افراد کو ٹرخائے رکھنے کی روش کو ترک کرتے ہوئے معاشرے کے اس سب سے کمزور طبقے کی فلاح و بہبود اور مستقل بحالی کے لئے معذور افراد کی خواہشات کے مطابق سنجیدہ اور فوری اقدامات کریں
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا