کھرمنگ( نامہ نگار) کھرمنگ لائن آف کنٹرول کے گاوں ہرغوسل کی سیٹ پر گلگت سے دو اساتذہ کی تعیناتی کے مسلے نے سرحدی علاقوں کے عوام کو احتجاج کرنے پر مجبور کردیا۔ یاد رہے سرحدی علاقوں کے عوام آج بھی تمام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں لیکن عوام شکوہ نہیں کرتے۔ مگر حال ہی میں محکمہ تعلیم کی جانب سے ہرغوسل کی سیٹ پر گلگت سے دو اساتذہ ایڈجسٹ کرنے کے معاملے نے عوام کو احتجاج کرنے پر مجبور کیا ہے، ہرغوسل یوتھ کے اراکین کا کہنا تھا کہ قانون کے مطابق کسی بھی سرکاری ملازم کو ایک ضلع سے دوسرے ضلع میں ایڈجسٹ نہیں کیا جاسکتا ہے لیکن کھرمنگ میں محکمہ تعلیم چونکہ چند افراد کے ہاتھوں یرغمال ہیں اس وجہ سے پسماندہ علاقوں کی تعلیمی اور سماجی پسماندگی سے فائدہ اٹھا کر یہاں کے عوام کو ہر سطح پر دیوار سے لگایا جارہا ہے، اُنکا کہنا تھاجو ٹیچرزگلگت سے مڈل سکول ہرغوسل کے نام پر ایڈجسٹ کیا ہوا ہے یہاں کے عوام اور طلاب نے کبھی اُنکی شکل بھی نہیں دیکھی لیکن وہ ہرغوسل کے نام پر ن تنخواہ اُٹھا رہے ہیں ۔ہرغوسل کے عوام نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان اساتذہ کی جگے مقامی این ٹی ایس پاس میرٹ پر اترے ہوئے لڑکوں کو لیا جائے ورنہ بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا