یوم کشمیر کا معاملہ،گلگت بلتستان میں مسلم لوگ ن کے وزراء دو دھڑوں میں تقسیم۔

0 0

سکردو(ٹی این این) گلگت بلتستان کو پانچ فروری کو یوم کشمیر منانے کے حوالے سے گلگت بلتستان میںحکمران جماعت دھڑے بندی کے شکار ہوگئے۔گزشتہ روز مسلم لیگ کے 6 وزراء نے وزیر اعلیٰ سے مشاورت کے بغیر 5 فروری کو یوم کشمیر کے بجائے یوم حقوق گلگت بلتستان کے طور پر منانے کا اعلان کردیا۔ یوم کشمیر سے لاتعلقی کا اظہار کرنے والوں میں وزیر تعلیم ابراہیم ثنائی،وزیر تعمیرات ڈاکٹر اقبال،وزیر بہبود آبادی و نوجوانان گلگت بلتستان ثوبیہ مقدم،وزیر سیاحت فدا خان اورپارلیمانی سیکرٹری و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی غلام حسین اور میجر ریٹائرڈ محمد امین شامل ہیں۔
دوسری طرف وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان نے کہاکہ 5فروری کو یوم یکجہتی کشمیر قومی جذبے اور اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کیساتھ غیر متذلزل تعلق کے عین مطابق تمام اضلاع میں بھرپور انداز میں منایا جائے گا۔ 5 فروری یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے تمام سرکاری، نیم سرکاری اور عوام کو تاکید کی ہے کہ گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں تقاریب منعقد کی جائیں اور ریلیوں کا انعقاد کیا جائے تاکہ نوجوان نسل کو اس بنیادی مسئلے سے آگاہ رکھا جاسکے۔
مسلم لیگ ن میں اس دھڑے بندی کو لیکر سوشل میڈیا پر بڑا چرچا ہےسوشل میڈیا صارفین کی جانب سے کہا جارہا ہے گلگت بلتستان میں ماضی کے سیاسی مزاج کے مطابق چڑھتی سورج کے پوجاری افراد نے حکومت کا سورج غروب ہوتے دیکھ کر تیور بدلنا شروع کیا ہے ۔ سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ یوم کشمیر ہرسال آتے ہیں اور ہر سال گلگت بلتستان میں یوتھ اس د ن یوم حقوق گلگت بلتستان کے طور پر مناتے آرہے ہیں اور اُس وقت یہی ٹولہ یوم حقوق گلگت بلتستان منانے والوں کو راء کا ایجنٹ اور بھارت کی خوشنودی حاصل کرنے کا الزام لگاتے رہے ہیں۔لیکن اس بار ریاستی نظام سے وفاداری کا حلف اُٹھانے کے باوجود یوم حقوق گلگت بلتستان کے نام پر عوام کو بیوقف بنانے باتیں فقط راہ بدلنے کا بہانہ ہے کیونکہ پچھلے چار سالوں میں مسلم لیگ نون کی حکومت نے گلگت بلتستان میں حکومت مانگنے والوں پر جو ظلم کی انتہاء کی ہے اُس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں،یہاں حقوق مانگنے والوں کو دہشت گرد بنا فورتھ شیڈول اور نیشنل ایکشن پلان جیسے مقدمات مسلم لیگ ن ہی کی مرہون منت ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website