گلگت (ٹی این این) ضلع نگر سے منتخب پاکستان پیپلزپارٹی کے رکن گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی جاوید حسین نے پارٹی منشور سے بغاوت کرتے ہوئے حکومت پاکستان سے بڑا مطالبہ کردیا۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹیلی ویژن کو خصوصی انٹرویو میں اُنہوں نے کہا کہ بتایا جائے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ریاست کیا چاہتا ہے ہمیں بتایا جائے اُنکا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کو جو سٹیٹس دیا ہے اُس میں چار چیزوں دفاع، کرنسی اور خارجہ پالیسی اور دفاع کے علاوہ تمام اختیارات وہاں کی حکومت کے پاس ہے بلکل اسی طرح اس سے بہتر نظام ہندوں نے سری نگر کے مسلمانوں کو دی ہوئی ہے لیکن جب ہم وہی سیٹ اپ مانگتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ ہم ریاست کے خلاف بات کرتے ہیں تو ہمیں واضح کیا جائے کہ ریاست آخر کیا چاہتا ہے۔
اُنکا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلےنے گلگت بلتستان کے عوامی مینڈیٹ پر قائم اسمبلی کے متفقہ قراداوں کو ردی کی حیثیت دیکر خارج کردیا ہم خود کو پاکستان سمجھتے ہیں اور ریاست کہتا ہے ایسا نہیں ہے اور ہمارے خطے کی قسمت کا فیصلہ آج تک کشمیر افیئرز کے سیکرٹری کرتے رہے ہیں۔اُنکا مزید کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کے عوامی نمائندوں کو اس خطے کے بارے میں فیصلہ کرنے کا آج تک حق نہیں دیا گیا اور پانچواں صوبہ کیلئے متفقہ قراداد مسترد کرنے کے بعد سرتاج عزیز کمیٹی کی جانب سے پیش کئے گئے مسلہ کشمیر کی حل تک کیلئے عبوری صوبے کے سفارشات کو سپریم کورٹ نے مسترد کردیا۔اُنہوں نے ریاست کو واضح پیغام دیا کہ ہم صرف اور صرف شہید ہونے کیلئے ہمارے وسائل اور زمینوں پر قبضہ کرنے کیلئے پاکستانی اور پاکستان کا حصہ نہ کہیں کیونکہ اب فیصلہ ہمارا نہیں بلکہ سپریم کورٹ کا ہے کہ گلگت بلتستان متنازعہ ہے ہم تو ہمیشہ سے کہتے آرہے ہیں کہ گلگت بلتستان متنازعہ نہیں بلکہ پاکستان ہے۔اُنکا کہنا تھا کہ اب ہم حق رکھتے ہیں کہ جو متنازعہ حیثیت آذاد کشمیر کے اندر ہے وہ فوری طور پر گلگت بلتستان میںنافذ عمل ہو۔ اُنہوں نے سوال کیا جب گلگت بلتستان پاکستان کا حصہ نہیں تو گلگت بلتستان کی زمینیں سی پیک کا روڈ کے ٹو کا پہاڑ کیسے پاکستانی ہوگیا ہمیں بتایا جائے۔
پیپلزپارٹی کے رکن گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کا خوفناک بیان،اسلام آباد سے بڑا مطالبہ۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا