اسلام آباد(ٹی این این) سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کے بعد بھی سیاسی جماعتوں کا ابہام سمجھ سے بالاتر ہے سپریم کورٹ آف پاکستان کا فیصلہ گلگت بلتستان کے سیاسی معاملات میں ریاستی موقف کا اظہار ہے ریاستی موقف کے واضح ہوجانے کے بعد ریاستی جماعتوں کا اختلاف رکھنا ریاست کو بلیک میل کرنے کی کوشش ہے متنازعہ حیثیت کے تعین کے بعد متنازعہ حقوق کے حصول کیلئے کشمیر طرز کے سیٹ اپ اور اسے با اثر بنانے کیلئے جے کے جی بی جوائینٹ کونسل کا مشترکہ طورپر جدوجہد کو تیز کرنا ہوگا. ان خیالات کا اظہار مولانا سلطان رئیس نے اپنے بیان میں کیا انہوں نے مزید کہا کہ مذکورہ فیصلے کے بعد دوبارہ سے نظرثانی کی اپیل کو لیکر سپریم کورٹ آف پاکستان سے رجوع کرنا ریاست کو مشکلات میں مبتلا کرنے کے ساتھ گلگت بلتستان کے عوام کو مزید 71 سال پیچھے دھکیلنے کے مترادف ہے انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کے بعد گلگت بلتستان کے عوام میں سنجیدگی اور نوجوانوں میں شعور بیدار ہوا ہے اسے ریاست مخالفت سے جوڑنا درحقیقت قومی حقوق کیلئے اٹھنے والی آواز کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے اس وقت گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کے حوالے سے سیاسی اور قومی جماعتیں ایک پیج پر آرہے ہیں نہ ریاست مخالف تحریک کا اندیشہ ہے اور نہ ہی وفاق نوازی کیلئے جدوجہد کی جارہی ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ اس اہم مسئلے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے تمام جماعتیں مشترکہ پلیٹ فارم کا قیام عمل میں لایا جائے اور پارٹی مفادات کو پس پشت ڈال کر قومی مفادات کی پاسداری کی جائے. انہوں نے مزید کہا کہ اگر سیاسی جماعتوں نے اس معاملے میں سنجیدگی سے کام نہ لیا تو عوامی شعور کی بیداری احتسابی تحریک میں تبدیل ہوگی لہذا قبل اسکے سیاسی جماعتوں پر سے عوام کا اعتماد اٹھ جائے قومی بیانییے کی تکمیل کیلئے مل کر جدوجہد کیا جائے عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان ہر معاملے میں عوام کے ساتھ رہی ہے مذکورہ مسئلے پر بھی اجتماعی پلیٹ فارم کیلئے سنجیدگی سے کام نہ لیا گیا تو عوامی ایکشن کمیٹی باہمی مشاورت سے اپنے پلیٹ فارم سے تحریک کا آغاز کرے گی.
چیرمین عوامی ایکشن کمیٹی مولانا سلطاں رئیس کا تمام سیاسی جماعتوں کے نام سخت پیغام۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا