کراچی(ٹی این این) ضلع کھرمنگ موضع غاسنگ تا ہلال آباد نجی فلاحی ادارہ شاربہ فاونڈیشن نے کراچی میں ممبر سازی اور سالانہ فنڈ ریزینگ مہم کے سلسلے میں اہم کانفرس کا انعقاد کیا۔تفصیلات کے مطابق کراچی اے بی سینالائن میں واقع غاسنگ ہاوس میں اس حوالے سے ایک پُروقار تقریب کا اہتمام کیا۔ اس اہم کانفرنس میں غاسنگ تا ہلال آباد کے علمائے کرام ممتاز سیاسی سماجی شخصیات اور طلباء نے شرکت کی۔ شاربہ فاؤنڈیشن غاسنگ تا ہلال آباد کراچی آرگنائزنگ کمیٹی کی طرف سے ممبر سازی مہم و سالانہ فنڈز رائزنگ تقریب کی صدارت کے فرائض ممتاز عالم دین حجتہ الالسلام والمسلمین امام جمعہ والجماعت آغا سید علی الموسوی نے کی۔ اس کے علاو ہ کراچی میں مقیم علاقے کے جید علمائے کرام جن میں سے مولانا محمد امینی، مولانا علی محمد رحمانی،مولانا محمد ایوب اشتر، ممتاز سماجی شخصیت جناب محمد حسین حقانیسمیت دیگر علمائے کرام و معززین اور طلباء رہنماوں نے خطاب کیا۔
مقررین نے کہا کہ غاسنگ تا ہلال آباد کے عوام کی جانب سے اس ادارے کی قیام کو ضلع کھرمنگ بلکہ بلتستان کی تاریخ انوکھا کارنامہ ہے اور اس ادارے کی قیام کیلئے کام کرنے والوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور مستقبل میں ادارے کو مزید فعال بنا کر پورے بلتستان کی سطح پر کام کرنے کیلئے کوشش کرنے پر زور دیا۔ اور حکومت گلگت بلتستان سے غاسنگ تا ہلال آباد یونین کونسل کے قیام کیلئے کسی سازش اور دباو کے بغیر بہت جلد اقدام اُٹھانے کا مطالبہ کیا،مقررین کا کہنا تھا کہ یہ علاقے تمام تر معاشرتی معاملات مشترک ہونے کے باوجود آج سیاسی اور معاشی محرومی کا شکار رہے ہیں لہذا اب چونکہ ضلعی ہیڈکوارٹر کا قیام بھی اس علاقے میں لایا ہے لہذا میونسپل ایریا کیلئے غاسنگ تا ہلا آباد سے ہٹ کر علاقے شامل کرنے کی صورت میں حکومت کو مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اس تقریب کا بینادی مقصد علاقے کے عوام جو کراچی میں مقیم ہے ان کو فاونڈیشن کے اغراض و مقاصد سے آگاہ کرنا اور ان کو مستقل طور پر ممبر بنانا تھا۔مقررین نے خطاب کرتے ہوئے اہم اہداف کی تکمیل پر شاربہ فاونڈیشن کو خراج تحسین پیش کیا اور آخر میں سارے شرکا نے شاربہ فاونڈیشن کا ممبر شپ فارم پر کرکے باقاعدہ طور پر شمولیت اختیار کیا۔۔صدر شاربہ فاؤنڈیشن ابراہیم آخوندی نے تمام معزز علما کرام اور حاضریں شرکا کا شکریہ ادا کیا اور انسانیت کی خدمت کے لئے فاؤنڈیشن کی فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کے حصہ لینے کی تاکید کی.۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا