کھرمنگ ( نامہ نگار) لگتا ہے حکومت گلگت بلتستان نے نومولود ضلع کھرمنگ کو مسائلستان بنائے رکھنا ہے، کیونکہ کھرمنگ میں مستقل ڈپٹی کمشنر نہ ہونے کی وجہ سے کئی سماجی اور انتظامی حوالے سے مسائل درپیش ہیں لیکن کمشنر بلتستان کو ضلع کھرمنگ کے مسائل کی کوئی فکر نہیں یہی وجہ ہے کہ کھرمنگ کو بغیر ڈپٹی کمشنر کے چلانے کی کوشش کی جارہی ہے، سابق ڈی سی کی ریٹارمنٹ کے بعد بڑی مشکل سے کھرمنگ میں ایک ذمہ دار افیسر کو ڈی سی مقرر کیا تھا لیکن حکومت نے اچانک انکا گانچھے ٹرانسفر کیا ہے جوکہ کھرمنگ کے ساتھ ناانصافی ہے۔
ڈپٹی کمشنر عدیل حیدر نے پہلی بار ضلعی ہیڈکوارٹر کے حوالے سے عملی طور پر کام کرنا شروع کیا تھا لہذا اُن کے ٹرانسفر ہونے سے یہ مسلہ پھر سے کھٹائی میں پڑھ سکتا ہے کیونکہ کھرمنگ سے منتخب عوامی نمائندے کو نہ ہی عوام قبول کرنے کیلئے تیار ہے اور نہ خود مخصوص سرحدی علاقوں کے علاوہ پورے کھرمنگ کے مسائل کی حل کیلئے مخلص نظر آتا ہے۔
ضلع کھرمنگ ایک بار پھر انتظامی طور پر لاورث،ڈی سی کھرمنگ کا گانچھے ٹرانسفر ،ضلعی ہیڈکوارٹر کا مسلہ ایک بار پھر کھٹائی میں پڑھ گیا۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا