چلاس (ٹی این این)دیامر سے تعلق رکھنے والے علمائے کرام خطیب جامع مسجد چلاس مولانا مزمل شاہ،،مولانا عبد المحیط اور مولانا رضوان نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی آڑ میں باغیانہ لب و لہجہ اور اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی حقوق کی جدوجہد نہیں دشمن خوش کرنے کی کوشش ہے ۔گلگت بلتستان کا پاکستان سے نظریاتی جڑت ہے اور ہمارا تعلق وسائل اور حقوق کسی بھی صورت میں متنازعہ نہیں ہیں۔ سپریم کورٹ نے گلگت بلتستان کو حقوق دینے کا حکم دیا ہے جو کہ خوش آئند ہے ، ملک کا دفاع فوج کر رہی ہے اور بلتستان میں اداروں کی خلاف ہرزہ سرائی اور غیر ضروری نعرہ بازی پرامن خطے کو نئی آزمائش میں ڈالنے کی سازش ہے ۔کسی کو بھی پرامن احتجاج کا حق حاصل ہے لیکن حقوق کی آڑ میں غیر ملکی ایجنڈا خطے کی مفاد میں نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ حقوق کی آڑ میں اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کسی طور پر جائز نہیں ہے ۔گلگت بلتستان پاکستان کا حصہ تھا ہے اور رہے گا۔گلگت بلتستان کوئی متنازعہ علاقہ نہیں ہے ،متنازعہ علاقہ مقبوضہ جموں کشمیر ہے ، جہاں آئے روز بھارتی مظالم جاری ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلتستان میں غیر ضروری احتجاجوں کے ذریعے خطے کا ماحول خراب کرنے کی کوشیش کی جارہی ہے اور حقوق کے آڑمیں منافرت پھیلاکر پراُمن فضاکوانتشار کی جانب دھکیل کر منفی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا رہا ہے ۔گلگت بلتستان پاکستان کی شہ رگ ہے اور یہاں کی عوام پاکستانی شہری ہیں، پاکستان کی بقا اور سلامتی کیلئے پوری قوم ماضی کی طرح اب اور مستقبل میں بھی کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ غیر ضروری جلسوں کے ذریعے حساس اداروں پرکیچڑ اُچھال کر ملک دشمن طاقتوں کا آلہ کار بننے والوں کونشان عبرت بنایا جائے ۔
گلگت بلتستان متنازعہ نہیں ،حقوق کی آڑ میں شر پھیلانے والوں کو نشان عبرت بنایا جائے۔خطیب جامع مسجد چلاس
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا