گلگت بلتستان متنازعہ نہیں ،حقوق کی آڑ میں شر پھیلانے والوں کو نشان عبرت بنایا جائے۔خطیب جامع مسجد چلاس

0 0

چلاس (ٹی این این)دیامر سے تعلق رکھنے والے علمائے کرام خطیب جامع مسجد چلاس مولانا مزمل شاہ،،مولانا عبد المحیط اور مولانا رضوان نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی آڑ میں باغیانہ لب و لہجہ اور اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی حقوق کی جدوجہد نہیں دشمن خوش کرنے کی کوشش ہے ۔گلگت بلتستان کا پاکستان سے نظریاتی جڑت ہے اور ہمارا تعلق وسائل اور حقوق کسی بھی صورت میں متنازعہ نہیں ہیں۔ سپریم کورٹ نے گلگت بلتستان کو حقوق دینے کا حکم دیا ہے جو کہ خوش آئند ہے ، ملک کا دفاع فوج کر رہی ہے اور بلتستان میں اداروں کی خلاف ہرزہ سرائی اور غیر ضروری نعرہ بازی پرامن خطے کو نئی آزمائش میں ڈالنے کی سازش ہے ۔کسی کو بھی پرامن احتجاج کا حق حاصل ہے لیکن حقوق کی آڑ میں غیر ملکی ایجنڈا خطے کی مفاد میں نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ حقوق کی آڑ میں اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کسی طور پر جائز نہیں ہے ۔گلگت بلتستان پاکستان کا حصہ تھا ہے اور رہے گا۔گلگت بلتستان کوئی متنازعہ علاقہ نہیں ہے ،متنازعہ علاقہ مقبوضہ جموں کشمیر ہے ، جہاں آئے روز بھارتی مظالم جاری ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلتستان میں غیر ضروری احتجاجوں کے ذریعے خطے کا ماحول خراب کرنے کی کوشیش کی جارہی ہے اور حقوق کے آڑمیں منافرت پھیلاکر پراُمن فضاکوانتشار کی جانب دھکیل کر منفی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا رہا ہے ۔گلگت بلتستان پاکستان کی شہ رگ ہے اور یہاں کی عوام پاکستانی شہری ہیں، پاکستان کی بقا اور سلامتی کیلئے پوری قوم ماضی کی طرح اب اور مستقبل میں بھی کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ غیر ضروری جلسوں کے ذریعے حساس اداروں پرکیچڑ اُچھال کر ملک دشمن طاقتوں کا آلہ کار بننے والوں کونشان عبرت بنایا جائے ۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website