کراچی(نامہ نگار خصوصی)گلگت بلتستان یوتھ الائنس کراچی نے آج پریس کلب کے سامنے سپریم کورٹ آف پاکستان کے حالیہ فیصلے کے پیش نظر گلگت بلتستان کی قومی تشخص کے حق میں احتجاجی مظاہرہ کیا ۔
مظاہرے میں گلگت بلتستان کے نوجوانوں کی ایک کثیر تعداد سمیت شہر کراچی کے مختلف سیاسی و سماجی کارکنوں نے شرکت کی۔مظاہرے میں شریک تمام طلبہ تنظیموں نے حالیہ فیصلے کے تناظر میں مندرجہ ذیل نکات کا مشترکہ اعلامیہ جاری کیا:
1- : سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کے بعد یہ مسلمہ حقیقت ایک دفعہ پھر ثابت ہو چکی ہے کہ گلگت بلتستان نہ تو پاکستان کا آئینی صوبہ ہے اور نہ ہی بنایا جا سکتا ہے
2- : اعلی عدالت نے گلگت بلتستان کے تشخص کے معاملے کو اگست 1948 کی اقوام متحدہ کی کمیشن کی قرارداوں کے مطابق دیکھے جانے کی بات کی ہے۔ چونکہ ان قراردادوں میں متنازعہ خطے میں خود مختار لوکل اتھارٹی قائم کرنے کا زکر ہے، گلگت بلتستان میں مکمل داخلی خود مختاری کو یقینی بنائی جائے۔
3- : دفاع، کرنسی اور خارجہ پالیسی کے علاوہ قانون سازی کے تمام قلمدان گلگت بلتستان کی ایک خود مختار آئین ساز اسمبلی کو دئیے جائیں۔
4-: گلگت بلتستان کی عوامی ملکیتی اراضی، جنگلات، معدنیات اور دیگر وسائل کی حفاظت کو یقینی بنانے اور کسی بھی ممکنہ ڈیمو گرافک تبدیلی کو روکنے کے لئے خطے میں پشتنی باشندہ قانون (سٹیٹ سبجیکٹ رول) بحال کیا جائے۔
5- : اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے کے پیش نظر گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت ثابت ہو چکی ہے لہذا خطے میں لاگو تمام کالے قوانین کو کالعدم قرار دیتے ہوئے تمام سیاسی اسیران کو فی الفور رہا کیا جائے نیز تمام سیاسی کارکنوں پر سے شیڈول فور کو ختم کیا جائے۔
6-: سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد تمام “وفاقی” پارٹیاں گلگت بلتستان میں اپنی موجودگی کا قانونی جواز عوام کے سامنے پیش کریں اور متنازعہ خطے میں جاری میگا پراجیکٹس کی تعمیر پر بھی از سر نو جائزہ لیا جائے۔ مظاہرے میں شریک تمام طلبہ تنظیموں کے نمائندوں نے نئے آرڈر کی منسوخی اور مکمل داخلی خود مختاری کے حصول تک مشترکہ جدوجہد کا فیصلہ بھی کیا۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا