آواز دےرہا ہوں۔۔!!!

0 0

آج سپریم کورٹ آف پاکستان کے معزز جج صاحبان کا گلگت بلتستان کے آئینی و قانونی حیثیت کے تعین کے حوالے سے کیلئے جانے والے فیصلے کو سن کر نہ حیرت ہوئی اور نہ ہی عبوری و آئینی صوبے کے حق میں فیصلہ نہ آنے پر مجھے افسوس ہے۔البتہ اس فیصلے سے ایک تکلیف ضرور ہوئی ہے کہ ایک مرتبہ پھر خطہ گلگت بلتستان کو آرڈنینس وآڈر کے زریعے نظم ونسق چلانے کا حکم نامہ دیا ہے۔اس فیصلے نے جہاں اہل گلگت بلتستان کو مایوس کیا ہے وہی عوام کو ستر سالوں سے پانچواں صوبہ،عبوری صوبہ،اسپیشل صوبہ،ماڈل صوبہ جیسے لال بتی کے پیچھے دوڑانے والی جماعتوں کے صف میں ماتم بچھ چکے ہیں۔اس حوالے سے اگر دیکھا جائے تو گلگت بلتستان کی سیاسی افق میں ہمیشہ سب سے کم درجے پر رہنے والی مقامی جماعتیں جنہیں عموماً قوم پرست کہا جاتا ہے ۔ان کے نظریے کو خوب پذیر آئی مل رہی ہیں۔کیونکہ قوم پرست طبقے نے ہمیشہ گلگت بلتستان کے عوام کو ماضی اور حال میں علاقے کے حقیقی حیثیت سے آگاہ رکھنے کی بھرپور کوشش کی ہیں ۔اس طبقے میں شامل افراد کو علاقے کی تاریخی و قانونی حیثیت عوام تک پرچار کرنے کی پاداشت میں اکثر اوقات غداری جیسے مقدمات کا بھی سامنا رہا۔یہاں کوئی مجھے قوم پرستوں کا ترجمان مت سمجیھے گا۔میں ایک کالم نگار (خود ساختہ ہی سہی) اور سماجی بہبود کا ادنیٰ سا طالب ہونے کے ناطے سچائی اور انسانیت پر یقین رکھتا ہوں اور جہاں حق اور سچ نظر آتا ہے وہاں صدا دینے کی اپنی طرف سے کوشش کرتا ہوں۔قوم پرستوں کے حوالے سے بھی یہی تعلق ہے۔ورنہ میرا اس طبقے سے دور دور تک کا واسطہ نہیں۔چھوڑیے جناب اپنی منزل کی طرف چلتے ہیں۔جس کی بنیاد پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور ان کی فل بنچ نے گلگت بلتستان کے متعلق فیصلہ دیا ہے۔عدالت عظمیٰ کے فیصلے کی رو سے گلگت بلتستان کو مسلہ کشمیر کا فریق اور متنازعہ خطہ قرار دیا گیا ہے اور حکومت کو حکم دیا ہے کہ جلد از جلد خطے کے عوام کو بنیادی و قانونی حقوق دیا جائے۔لیکن ساتھ میں یہ بھی حکم دیا گیاہے کہ گلگت بلتستان آڈر( جس کو عوام کی بڑی اکثریت پہلے ہی رد کر چکی ہے)میں ضروری ترامیم کر کےجلد نافذ کریں۔حیرت اس بات پر ایک طرف تو سپریم کورٹ خطے کو مسلہ کشمیر کا فریق و متنازعہ خطہ گردانتے ہیں تو دوسری طرف ریاست جموں و کشمیر میں موجود اسٹیٹ سبجیکٹ رول کے بارے میں تذکرہ نہیں کیا گیا جو ستر کی دہائی سے گلگت بلتستان میں معطل کر رکھاہے۔اور نہ ہی ایسے سٹیٹس کے بارے میں کوئی فیصلہ دکھائی دیا جو ایک متنازعہ خطہ ہونے کے ناطے اقوام متحدہ نے یہاں کے عوام کیلئے تفویض کیا ہوا ہے۔اقوام متحدہ کے ادارے UNCIP کی قرداد کا ذکر تو ہوا لیکن مقامی سطح پر آئین ساز اسمبلی کے قیام کا ذکر فیصلے میں کہی نظر نہیں آیا ہونا تو یہ چاہے تھا کہ سپریم کورٹ گلگت بلتستان کو پاکستان کے آئین کا حصہ مانتے ہوئے پانچواں صوبہ بنا لیتا لیکن ایسا گلگت بلتستان کی تاریخی و قانونی اسٹیٹس کے تناظر میں ممکن نہیں تھا اس لئے معزز جج صاحبان کی پوری ٹیم پر ذمہ داری بنتے تھے کہ خطہ کو مسلہ کشمیر کے دوسرے فریقوں کی طرح بااختیار سیٹ اپ دیتا لیکن معذرت کے ساتھ سپریم کورٹ کے فیصلے میں ایسا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔
تحریر : ذوالفقار علی کھرمنگی

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website