سکردو(ٹی این این) ڈسٹرک ہیڈکوارٹر ہسپتال سکردو بلتستان کے چاروں اضلاع کا واحد علاج گاہ ہے۔لیکن اس ہسپتال میں سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے مریضوں کو ہمیشہ کافی مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ میڈیکل آفیسر سرکاری کھاتے میں تشخیص کے بجائے ذیادہ تر مریضوں کو ذاتی کلینک کیلئے ریفر کرنے اور وہاں علاج کے نام پر لوٹ مار پر مسلسل عوامی شکایات کے باوجود محکمہ صحت کی طرف سے آج تک کوئی نوٹس نہیں لیا گیا۔ اس وقت سکردو میں سخت سردی کے عالم میں مریض اور بچے فرج نما وارڈ میں برف بن کر مزید بیمار ہورہا ہے لیکن وارڈ کے بجائے ڈاکٹروں کے کمرے گرم نظر آتا ہے۔ بچہ وارڈ میں سردی کی وجہ سے بلتستان کے دور دراز علاقوں سے بخار اور ملیریا کےمبتلاکئی درجن بچے ایڈمٹ ہیں لیکن ایک بڑے ہال میں صرف چند گھنٹوں کیلئے گیس ہیٹر کی سہولت موجود ہے اس وجہ سے ایک تو مریض کا حال پہلے سے ذیادہ خراب ہورہا ہے اور ساتھ ہی تیماداری کیلئے موجود لوگ بھی ذیادہ سردی کے وجہ سے بیمار ہورہا ہے لیکن ہسپتال انتظامیہ اپنی ذمہ داریوں سے مکمل طور پر غافل نظر آتا ہے۔حکومت کو چاہئے کہ بجلی کے اسپیشل لائنوں کو سرکاری افسران اور سفارشی افراد کے گھروں سے نکال کر ہسپتال میں سخت سردی کی وجہ سے بیماری کے بعد مزید بیمار ہونے سے بچائیں۔
ڈسٹرک ہیڈکوارٹر ہسپتال سکرد ومیں ڈاکٹروں کے کمرے گرم،مریضوں کےواڑد زمیں برف جم گئے۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا