اسلام آباد (ٹی این این) سپریم کورٹ نے ملک بھر میں پنچایتی اور جرگہ سسٹم کو غیرآئینی قرار دے دیا۔ خیبرپختوانخواہ میں رائج فاٹا ریگولیشن بھی 25ویں آئینی ترمیم کی روشنی میں غیرآئینی قرار۔چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل بنچ نے تحریری فیصلہ جاری کیا۔ سپریم کورٹ نے قومی کمیشن برائے خواتین اور خیبرپختوانخواہ حکومت کی درخواستوں پر فیصلہ جاری کیا۔ پنچایتی اور جرگہ سسٹم آئین کے آرٹیکل چار، آٹھ، دس اے، پچیس اور 175 اے کی خلاف ورزی ہے۔
فیصلہ کے مطابق پنچایتی اور جرگہ سسٹم عالمی معاہدوں کی بھی خلاف ورزی ہے جن کا پاکستان حصہ ہے۔ پنجایت اور جرگہ کو دیوانی اور فوجداری عدالتوں کا اختیار استعمال کرنے کا اختیار نہیں۔ فریقین کی رضامندی سے قانون کے دائرے میں پنجایت اور جرگہ صرف ثالثی مقاصد کیلئے کیا جا سکتا ہے۔
یاد رہے گلگت بلتستان میں مسلم لیگ نون کی حکومت نے بلدیاتی انتخابات کرانے کے بجائے تمام اضلاع میں نمبرادری سسٹم بحال کرکے خطے کو 1947 کی پوزیشن پر لے جایا گیا لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔ گلگت بلتستان کے عوام میں اس جابرانہ قانون کی بحالی کے حوالے سے شدید خدشات پایا جاتا ہے اور سوشل میڈیا پر نمبرداری سسٹم کے خلاف باقاعدہ کمپئن چل رہا ہے عوامی حلقوں کی جانب سے گلگت بلتستان میں جمہوری نعرے کے ساتھ نمبرداری سسٹم کو حکومت کی ناکامی قرار دیا جارہا ہے۔
پختونخواہ میں پنچایت ، جرگہ سسٹم غیرآئینی قرار،جبکہ گلگت بلتستان میں نمبرداری سسٹم پر کوئی نہیں پوچھ رہا۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا