لاہور(ٹی این این) گلگت بلتستا ن کے وادی استور سے تعلق رکھنے والے طالب علم کا اغواء کے بعد قتل کے خلاف لاہور میں گلگت بلتستان کے طلبہ نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ تفصیلات کے مطابق روالپنڈی اقراء کالج میں سیکنڈ ائر کےطالب علم اعجاز علی چند روز پہلے راولپنڈی سے غائب ہوگیا تھا بعدازاں اُنکا تشدد زدہ لاش گوجر خان سے برآمد ہوئی لیکن حکومت پنجاب نے قاتلوں کی گرفتاری کے حوالے سے ابھی تک کوئی مثبت قدم نہیں اُٹھایا۔ مقتول طالب علم کے قاتلوں کی گرفتاری اور لواحقین کو انصاف دلانے کیلئے آج چار بجے لبرٹی گول چکر لاہور میں گلگت بلتستان کے طلبہ کی جانب سے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں درجہ ذیل مطالبات پیش کئے گئے۔۔
چند روز قبل اغوا ہونے والے گلگت بلتستان کے طالب علم اعجاز علی جسے تشدد کے بعد قتل کیا گیا، جسد خاکی گجر خان سے ملی ہے اس واقعے کی مکمل انکوری کرائی جائے اور قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے تاکہ آئندہ کے بعد اس طرح کے واقعات کی روک تھام ممکن ہو۔۔
گلگت بلتستان میں معیاری تعلیمی انفراسٹیکچر کا قیام عمل میں لایا جائے تاکہ ہمارے نوجوان پاکستان کے دیگر شہروں میں دربدر ہونے سے محفوظ ہوسکے۔
پنجاب پولیس اگر آنے والے اتوار تک مجرموں کی گرفتاری عمل نہیں لاتے ہیں تو اتوار کو پنجاب اسمبلی کے سامنے دھرنا دیا جاے گا۔
طلباء نے وزیرعلیٰ گلگت بلتستان چیف سکرٹیری گلگت بلتستان سے بھی پرُزور مطالبہ کیا ہے کہ قاتلوں کی گرفتاری کے حوالے سے محکمہ داخلہ پنجاب سے رابطہ کرکے قاتلوں کی گرفتاری کو یقینی بنائیں،مظاہرین کا یہ بھی مطالبہ تھا کہ اس وقت چونکہ پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت ہے لہذا گورنر گلگت بلتستان راجہ جلال مقپون کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس ظلم کے خلاف اپنے اثررسوخ کا استعمال کرتے ہوئے مقتول کو انصاف دلانے کیلئے کردار ادا کریں۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا