چلاس(محمدقاسم)ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر دیامر ڈاکٹر مبین اور ڈاریکٹر ای پی آئی گلگت ڈاکٹر شکیل نے محکمہ صحت کے حالیہ بھرتیوں میں رشوت خوری کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے۔لین دین کی بنیاد پہ رشوت خوری کا بازار گرم کر کے من پسند افراد کو خوب نوازا ان خیالات کا اظہار پاکستان تحریک انصاف دیامر کے صدد عتیق اللہ اپنے سیکریٹریٹ میں پریس کانفرنس کے دوران کیا انہوں نے کہا کہ ڈی ایچ او دیامر اور ڈاریکٹر ای پی آئی گلگت ڈاکٹر شکیل نے میرٹ کی دھجیاں اڑا کے لاکھوں روپے رشوت وصول کئے۔اور حقدار کا حق غضب کیا۔ڈسپنسری کے قریب کے قابل اور میرٹ پہ پورا اترنے والے افراد کو دیوار سے لگا کر دور دراز کے لوگوں کو رشوت کی بنیاد پہ تقریری کی۔جو کہ قابل مذمت اور قابل گرفت ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر مبین اور ڈاکٹر شکیل پہ پہلے سے کریشن کرنے کے جرم میں انکوائری چل رہی تھی۔ڈاکٹر شکیل نے ایم ایس چلاس کے دوران ہسپتال اب گریڈیشن منصوبے میں کڑورں روپے کی کرپشن کی تھی جس کے واضع ثبوت موجود ہیں اور محکمانہ انکوائری چل رہی ہے۔مگر بدقستمی سے ایسے رشوت خور عناصر کے زیر نگرانی بھرتیاں کرنے کی ذمے داریاں سوپنا حیران کن امر ہے انہوں نے فورس کمانڈر گلگت بلتستان چیف سکریٹری گلگت بلتستان اور نیب حکام سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ صحت دیامر میں ہونے والی حالیہ بھرتیوں کو کیسل کرکے از سرے نو شفاف انداز میں بھرتیاں عمل میں لائی جائے۔اگر فوری ایکشن نہ لینے کی صورت میں راست اقدام پہ موجود ہونگے جس کہ تمام تر ذمے داریاں حکومت گلگت بلتستان پہ عائد ہونگی۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا