شگر(عابدشگری)سول سوسائٹی شگر کے رہنمائوں مہدی علی ایڈوکیٹ ،وجاہت ایڈوکیٹ ،ظہیر عباس،وزیر نسیم،یٰسین شگری اور دیگر نے کہا ہے کہ کڑوس تھنگ ،سرفہ رنگا سمیت دریائے سندھ سے شگر کی جانب تمام علاقے ضلع شگر ہے ۔یہاں تمام سرکاری اداروں کیلئے اراضی شگر انتظامیہ نے الاٹ کیا ہے۔بلتستان یونیورسٹی سمیت تمام ادارے شگر ضلع کی حدود میں بن رہے ہیں۔ لہذا ضلع شگر حدود میں بننے والے تمام اداروں میں تعینات ہونے والے چھوٹے ملازمین کا حق ضلع شگر کا ہے۔اگر ضلع سے باہر کسی کو ان ملازمت پر تعیناتی پر شوق ہو تو وہ اپنے ضلع سے ترک سکونت اختیار کرکے ضلع شگر کا ڈومسائل حاصل کریں اور ان ملازمت پر اپنا حق جتائے۔ بصورت دیگر شگر کی حقوق پر کسی کو ڈاکہ ڈالنے کی کسی کو اجزات نہیں دینگے۔ان کا کہنا تھا کہ نر غوڑو کو ضلع شگر سے بتدریج الگ کرنا ایک سازش ہے۔نر غوڑو جغرافیائی طور ضلع شگر کا حصہ ہے ۔اور رہے گا۔ کسی کی ذاتی خواہش پر ضلع کی جغرافی حدود میں رد و بدل کرنے کی شگر کی عوام کبھی اجازت نہیں دینگے۔اور شگر کی عوام اپنے حقوق کی دفاع کیلئے متحد ہے اگر ہم خاموش رہے تو اصل حدف چھومک پل کے اس پار واقع میدانوں خصوصا سرفہ رنگا کو سکردو میں ضم کرنا ہے۔جوکہ کبھی ہونے نہیں دینگے۔
ضلع شگر میں انتظامیہ نے عوامی اراضی سرکاری اداروں کو الاٹ کردی،عوام احتجاج کیلئے تیار۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا