ضلع شگر میں انتظامیہ نے عوامی اراضی سرکاری اداروں کو الاٹ کردی،عوام احتجاج کیلئے تیار۔

0 0

شگر(عابدشگری)سول سوسائٹی شگر کے رہنمائوں مہدی علی ایڈوکیٹ ،وجاہت ایڈوکیٹ ،ظہیر عباس،وزیر نسیم،یٰسین شگری اور دیگر نے کہا ہے کہ کڑوس تھنگ ،سرفہ رنگا سمیت دریائے سندھ سے شگر کی جانب تمام علاقے ضلع شگر ہے ۔یہاں تمام سرکاری اداروں کیلئے اراضی شگر انتظامیہ نے الاٹ کیا ہے۔بلتستان یونیورسٹی سمیت تمام ادارے شگر ضلع کی حدود میں بن رہے ہیں۔ لہذا ضلع شگر حدود میں بننے والے تمام اداروں میں تعینات ہونے والے چھوٹے ملازمین کا حق ضلع شگر کا ہے۔اگر ضلع سے باہر کسی کو ان ملازمت پر تعیناتی پر شوق ہو تو وہ اپنے ضلع سے ترک سکونت اختیار کرکے ضلع شگر کا ڈومسائل حاصل کریں اور ان ملازمت پر اپنا حق جتائے۔ بصورت دیگر شگر کی حقوق پر کسی کو ڈاکہ ڈالنے کی کسی کو اجزات نہیں دینگے۔ان کا کہنا تھا کہ نر غوڑو کو ضلع شگر سے بتدریج الگ کرنا ایک سازش ہے۔نر غوڑو جغرافیائی طور ضلع شگر کا حصہ ہے ۔اور رہے گا۔ کسی کی ذاتی خواہش پر ضلع کی جغرافی حدود میں رد و بدل کرنے کی شگر کی عوام کبھی اجازت نہیں دینگے۔اور شگر کی عوام اپنے حقوق کی دفاع کیلئے متحد ہے اگر ہم خاموش رہے تو اصل حدف چھومک پل کے اس پار واقع میدانوں خصوصا سرفہ رنگا کو سکردو میں ضم کرنا ہے۔جوکہ کبھی ہونے نہیں دینگے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website