ضلع کھرمنگ گلگت بلتستان کے نئے اضلاع میں شمار ہوتا ہے ـ اس کی شاخیں مختلف علاقوں اور نالہ جات میں پھیلی ہوئی ہیں ـ عرصہ دراز کھرمنگ پر موروثی سیاست حاکم رہنے کی وجہ سے یہ گلگت بلتستان کے محروم وپسماندہ ترین مقامات میں سرفہرست شامل رہا، پڑھے لکھے باصلاحیت افراد کے بحران کے سبب اس کے باسی ہر طرح کی محرومیت کو اپنی قسمت کا لکھا سمجھنے پر یقین کرتے رہے، تعلیم یافتہ افراد کی تعداد انگشت شمار جب کہ ناخواندہ گی کی شرح ذیادہ رہی اور قلیل تعداد کے پڑھے لکھے افراد بھی اجتماعی شعور سے تہی ہونے کی وجہ سے کھرمنگ کی ترقی کے بجائے اپنے ذاتی مفادات کے گرد چکر کاٹنے پر ہی اکتفا کرنے کے عادی رہے ، لیکن آج جس طرح پوری دنیا میں لوگوں کا رجحان تعلیم کی طرف ہے ضلع کھرمنگ سے بھی تعلیم یافتہ افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جو اس ضلعے کے روشن مستقبل کی نوید دے رہا ہے ـ۔ اس حقیقت سے کوئی شخص انکار نہیں کرسکتا کہ اقوام کی تقدیر افراد کے ہاتھوں میں ہےـ وہ قوموں کو ترقی کی بلندترین منزل پر بھی پہنچاسکتے ہیں اور پستی وزوال کی گہرائی میں بھی گراسکتے ہیں ـ۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان افراد کی کیا شرائط ہیں جو قوموں کو پستی کے بجائے ترقی کی طرف لے جاتے ہیں اور معاشرے کو انحطاط کا شکار کرنے کے بجائے اسے پیشرفت کی راہ پر گامزن رکھنے کی کوشش کرتے ہیں نیز وہ ہر جہت سے اپنی ذات سے ذیادہ اپنی قوم اور اپنے اجتماع ومعاشرے کی فکر میں مگن رہتے ہیں؟ جواب یہ ہے کہ ایسے افراد کے لئے دواساسی شرط کا حامل ہونا بے حد ضروری ہے پہلی شرط یہ ہے کہ افراد تعلیم یافتہ ہوں دوسری شرط یہ ہے کہ وہ اسلامی اصولوں کے مطابق تربیت یافتہ ہوں ـان دوشرطوں میں سے کسی ایک کی عدم موجودگی کی صورت میں یقینی بات ہے کہ افراد قوموں اور معاشرے کو فائدے کے بجائے نقصان ہی پہنچا دیں گے ـ۔
اس حقیقت کے تناظر میں دیکھا جائے تو کھرمنگ کے تعلیم یافتہ طبقے کی اکثریت میں ہمیں دوسری شرط کا فقدان دکھائی دیتے ہیں، جس پر گواہ سوشل میڈیا پر اس ضلعے سے تعلق رکھنے والے تعلیم یافتہ افراد کے درمیان ہونے والے مباحثے ہیں ـ آج کل فیس بک اور واٹس ایپ گروپس میں مختلف موضوعات پر گھرمنگ کے جوانان محو بحث ہیں ـ سب سے زیادہ سیاسی مسائل پر وہ بحث کرتے نظر آتے ہیں ـ ہماری نظر میں یہ ایک اچھا اور ضروری اقدام ہے لیکن بشرطھا وشروطھا ،ـ
پہلی شرط یہ ہے کہ ان بحثوں کا ہدف پورے کھرمنگ کے مسائل وعوامی مشکلات کو عیاں کرکے راہ حل نکالنا ہو ـ۔
دوسری شرط یہ ہے کہ ان بحثوں میں شمولیت اختیار کرکے بحث کرنے والے علاقائی تعصب سے ماوراء ہوکر پورے کھرمنگ کے عوام کی ترقی اور سہولیات کو مدنظر رکھ کر بحث کرکے مثبت نتیجہ اخذ کرنے کی کوشش کریں ۔
تیسری شرط یہ ہے کہ بحث کے دوران ذاتی مفادات اور اپنی پارٹی کا پلہ بھاری کرنے کی کوشش کرنے کے بجائے اجتماعی مفادات کے پہلو کو تقویت کرنے کی کوشش کریں ـ ۔
البتہ یہ تبھی ممکن ہے کہ افراد مذکورہ بالا دو اساسی شرط کے حامل ہوں گے مگر کھرمنگ کے تعلیم یافتہ طبقے کے درمیان جاری مباحثوں میں صورتحال یہ ہے کہ ان میں شریک بعض افراد علم اور بہتر تجربہ رکھنے کے باوجود فکری تربیت اور اجتماعی شعور سے بے بہرہ نظر آتے ہیں جس کی نشانی یہ ہے کہ وہ اپنے علاقے کے مفاد میں ہی باتوں کا تیر چھوڑتے رہتے ہیں آج کل میونسپٹلی کے ایشو پر ان کے درمیان گرماگرمی بحث جاری ہے جس پر بحث کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد اپنے اپنے گاؤں کا نام لے کر ذاتی مفادات کا برملا اظہار کررہی ہے چنانچہ وہ اس ہدف تک رسائی حاصل کرنے کے لئے بعض اخلاقی حدود سے باہر نکل کر ایک دوسرے کی عزت نفس مجروح کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے ہیں جو بالکل بھی نیک شگون نہیں بلکہ یہ سب فکری تربیت کی ناپختگی کی بین دلیل ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ سارے ذاتیات کے خول سے نکل کر کھرمنگ کی ترقی کے بارے میں سوچیں اجتماعی مفادات پر غور کریں ترقیاتی منصوبوں کو ایک دوسرے کی شکایات کرکے واپس کرنے کے بجائے پورے کھرمنگ کے عوام کا مفاد سمجھتے ہوئے لینے کی کوشش کریں اس کے دور دراز نالہ جات کے غریب عوام تک انسانی بنیادی سہولیات جیسے طبی سہولیات تعلیمی سہولیات بجلی سڑکیں وغیرہ پہنچانے کے لئے ایوان کے کرسی نشینوں تک آواز پہنچائیں سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ جہاں بھی رہیں متحد رہیں کھرمنگ کے مسائل حل کرنے میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی منفی حرکت کرنے کے بجائے ایک دوسرے کو سربلند دکھانے کا اخلاقی وعملی مظاھرہ کریں عوامی نمائندوں کو شتر بے مہار کی طرح چھوڑ کر نہ رکھیں ان پر باقاعدہ نظر رکھ کر انہیں عوام کی واقعی معنوں میں نمائندگی کرنے پر مجبور کرائیں ضلع کھرمنگ کی ترقی کا راز یہی ہیں۔
تحریر: محمد حسن جمالی ـ
More Stories
شاہراہ بلتستان ،شاہراہ قراقرم کی زبوں حالی اور سیاحت کا مستقبل۔
دیرینہ کارکنوں کی قربانیاں اور سیاسی جماعتیں
اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کا مقدمہ ہے یا نہیں ؟