اسلام آباد(ویب ڈیسک/ٹی این این)جعلی ڈگریوں کے حامل پی آئی اے ملازمین پر بجلی گر گئی، ترجمان پی آئی اسے کے مطابق 3 پائلٹوں کو جعلی ڈگری پر ملازمت سے فارغ کر دیا گیا، جبکہ مرد و خواتین پر مشتمل 50 کیبن عملے کو بھی نوکریوں سےبرطرف کر دیا گیا۔ترجمان کا کہنا تھا کہ ملازمین کے خلاف کارروائی سپریم کورٹ کی ہدایت پرکی گئی۔ترجمان سول ایوی ایشن کے مطابق ڈائریکٹر جنرل سول ایوی ایشن نے جعلی ڈگری رکھنے والے تمام پائلٹس کے لائسنس معطل کرنے کا حکم دے دیا۔ترجمان کے مطابق جعلی ڈگری اورجعلی سرٹیفکیٹس رکھنے والے کیبن کریو کے بھی لائسنس فوری معطل کرنےکاحکم دیا گیا ہے۔ترجمان کے مطابق اس کے ساتھ ہی اپنی ڈگریاں جمع نہ کرانے والوں کے لائسنس بھی اس وقت تک کےلئے معطل کردیے گئے جب تک ڈگریاں جمع نہیں کرائی جاتیں۔ترجمان پی آئی اے کے مطابق انتظامیہ نے جعلی ڈگری والے پائلٹس اور کیبن کریو کے خلاف کارروائی کی اور مجموعی طور پر 53 ارکان کو ملازمت سے فارغ کردیا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل سپریم کورٹ آف پاکستان نے دسمبر 2018 کے پہلے ہفتے میں پی آئی اے پائلٹس اور عملے کی جعلی ڈگری کیس میں پی آئی اے ،سول ایوی ایشن اور متعلقہ اداروں کے سربراہان کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا تھا۔ سپریم کورٹ میں دوران سماعت اسٹنٹ اٹارنی جنرل نے عدالت عظمیٰ کو بتایا تھا کہ پی آئی اے پائلٹس اور عملے کی 73 ڈگریاں جعلی ہیں۔
جعلی ڈگریوں کے حامل پی آئی اے کے تین پائلٹوں سمیت مرد ، خواتین پر مشتمل پچاس کیبن عملہ برطرف ۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا