گڑھی خدا بخش (ویب ڈیسک/ٹی این این) چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ سلیکٹڈ وزیر اعظم کو اس بات کا اندازہ ہی نہیں کہ اس وقت وفاق کی بنیادیں کتنی کمزور ہوچکی ہیں اور ایک چنگاری سب کچھ راکھ میں بدل سکتی ہے۔جس طرف نظر دوڑائیں غم اور غصے کی لہر ہے ، لیکن مجال ہے کہ اس ملک کے نام نہاد ٹھیکیداروں کو کوئی فکر ہو، وہ تو اپنی طاقت کے نشے میں مست ہیں اور یہ دیکھنے سے قاصر ہیں کہ ملک ہاتھ سے نکلتا جارہا ہے۔آپ نے بے نامی اکاؤنٹس کی تحقیقات تو کیں لیکن اگر ہمت ہے تو بے نامی وزیر اعظم کی تفتیش بھی کرو۔ قسم ہے مجھے ان شہیدوں کے لہو کی میں تم سے لڑوں گا، تمہاری سازشوں اور تمہارے جھوٹ سے لڑوں گا ، تمہارے غرور کے آگے ڈٹ جاؤں گا اور تمہارے غرور کو تار تار کردوں گا۔
بینظیر بھٹو کی گیارہویں برسی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بی بی شہید کے جیالے میرا سرمایہ ہیں میرے سیاسی سفر کا مقصد بی بی کے قوم سے کیے ہوئے وعدے کو نبھانا ہے۔ دو سالوں میں میری راہ میں دیواریں کھڑی کی گئیں، آلِ یزید کو اس چیز کا اندازہ نہیں کہ بلاول کی رگوں میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا خون دوڑ رہا ہے۔ قسم ہے مجھے ان شہیدوں کے لہو کی میں تم سے لڑوں گا، تمہاری سازشوں اور تمہارے جھوٹ سے لڑوں گا ، تمہارے غرور کے آگے ڈٹ جاؤں گا اور تمہارے غرور کو تار تار کردوں گا۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ سلیکٹڈ وزیر اعظم کو اس بات کا اندازہ ہی نہیں کہ اس وقت وفاق کی بنیادیں کتنی کمزور ہوچکی ہیں اور ایک چنگاری سب کچھ راکھ میں بدل سکتی ہے۔ کیا وجہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں نوجوانوں کی تحریک زور پکڑتی جارہی ہے، ان کی بات سنو مگر مجال ہے کہ اس ملک کے ٹھیکیداروں کو کوئی احساس ہو۔ کوئٹہ میں سینکڑوں ماؤں بہنوں کے مطالبات کیوں نہیں سنے جارہے ، ان کے پیارے کیوں لاپتا ہیں ، اگر وہ مجرم ہیں تو انہیں عدالتوں میں کیوں نہیں پیش کیا جاتا۔ کیا وجہ ہے کہ تین صوبائی اسمبلیوں سے کالاباغ ڈیم کے خلاف قرارداد منظور ہونے کے باوجود اس کیلئے مہم چلائی جارہی ہے۔ کیوں سندھ کے اعتراضات ردی کی ٹوکری میں پھینکے جارہے ہیں۔ کیوں گلگت بلتستان سے سوتیلا سلوک کیا جارہا ہے۔ میاں صاحب کو سزا دلوانے کے بعد جو نعرے پنجاب میں لگے کیا اس کا کوئی تصور بھی کرسکتا تھاجس طرف نظر دوڑائیں غم اور غصے کی لہر ہے ، لیکن مجال ہے کہ اس ملک کے نام نہاد ٹھیکیداروں کو کوئی فکر ہو، وہ تو اپنی طاقت کے نشے میں مست ہیں اور یہ دیکھنے سے قاصر ہیں کہ ملک ہاتھ سے نکلتا جارہا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آج ملک کی باگ ڈور ایک ناتجربے کار کے ہاتھ میں دے دی گئی ہے۔ یہ کیسا وزیر اعظم ہے جس کو اپنے وزیر اعظم ہونے کا بیوی سے اور روپیہ گرنے کا بیوی سے پتا چلتا ہے۔ اس نے پہلے 100 دنوں میں ہی عوام کو مہنگائی کے سونامی میں ڈبودیا ہے۔ ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ گھروں کا وعدہ کرنے والے نے مہنگائی اور بیروزگاری کا طوفان اٹھادیا ہے۔ نام نہاد تجاوزات کے خلاف آپریشن کے نام پر لاکھوں لوگوں کو چھت سے محروم کردیا گیا۔
وفاق کی بنیادیں کمزور ہوچکی ہے،لیکن سلیکٹیڈ وزیراعظم بے خبر ہے ۔بلاول بھٹو زرداری
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا