گانچھے(پ،ر) حکومتی ذرائع کے مطابق ضلع گانچھے کے وادی کریس میں شدید لوڈشیڈنگ کے باوجود عوام میں اتفاق رائے نہ ہونے کی وجہ سے بجلی گھر کی تعمیر تاخیر کے شکار ہیں، عوام نے اس حوالے سے افہمام تفہیم سے کام نہیں لیا تو پروجیکٹ منسوخ ہو سکتی ہے۔ تفصیلات کے مطابق بجلی گھر کے لیے جو جگہ مختص کیا گیا تھا وہ جگہ کچھ لوگوں کی مخالفت کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ محکمہ برقیات گلگت بلتستان کے اعلی حکام نے مخالفت کرنے والوں کی خدشات دور کرنے کا وعدہ بھی کیا انہوں نے متاثرین کے مطالبات جتنا ممکن ہو سکے حل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ مگر پورے کریس کے مفاد سے وابستہ اس پروجیکٹ کو بھی کچھ نام نہاد کرتا دھرتاؤں نے اپنے انا کا مسئلہ بنایا ہوا ہے اور جو لوگ اس پروجیکٹ کی مخالفت کر رہے ہیں ان میں چند مفاد پرست اور انا پرست ٹولے ہیں وہ سب سرکاری ملازم ہیں۔عوام کا کہنا ہے کہ کریس بجلی گھر کے منصوبے کو واپس نہیں جانا چاہئے بلکہ گورنمنٹ اس پروجیکٹ کو بائی فورس بھی لگانا چاہئے کیونکہ یہ چند مفاد پرست ٹولے کی بات نہیں یہ پورے کریس کے باشندوں کے مفاد کا منصوبہ ہے۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا