اسلام آباد (ویب ڈیسک/ٹی این این)وزیرمملکت داخلہ شہریارآفریدی نے والدین کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ64 ہزار بچوں کی غیر اخلاقی وڈیوز سرگودھا سے برآمد ہوئیں،جدید ٹیکنالوجی پر والدین کا چیک اینڈ بیلنس ضروری ہے ٗڈرگ مافیا ہماری نسلوں کو تباہ کررہاہے، اپنے بچوں پرنظر رکھیں ،موجودہ دور حکومت میں کوئی بھی شخص قانون کو ہاتھ میں نہیں لے سکتا ٗنئے پاکستان میں قانون سب کیلئے برابر ہے۔
منگل کو تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرمملکت داخلہ شہریارآفریدی نے کہا کہ خودکش بمبار چند سو افراد کو اور مافیا منشیات کے ذریعے قوم کو ہدف بناتا ہے، صرف چرس پینے والا نہیں پکڑا جائیگا ، مافیا کو بھی قانون کی گرفت میں لائیں گے، منشیات فروشوں اور غیراخلاقی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے ساتھیوں کو بھی پکڑیں گے۔
وزیر مملکت نے کہا کہ والدین اپنے بچوں پر نظر رکھیں، جدید ٹیکنالوجی پر والدین کا چیک اینڈ بیلنس ضروری ہے، بچوں کو موبائل فون یا دیگر اشیا دینے سے پہلے جاننا ہوگا اس پر بچے کیا استعمال کر رہے ہیں، ان ڈیوائسز کے استعمال سے بچے تباہی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ سرگودھا سے بچوں کی 64 ہزار غیراخلاقی وڈیوز برآمد ہوئیں، بچوں کی عزتوں سے کھیلنے والے اگریہ سمجھتے ہیں کہ ان کے خلاف کچھ نہیں ہوگا، ایسا نہیں،غیراخلاقی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی ہوگی اور انہیں عبرت کا نشانہ بنائیں گے۔شہریار آفریدی نے کہا کہ والدین کو آگاہی نہیں کہ بچے کس تباہی کے طوفان میں دھنسے ہوئے ہیں، بچوں کے اسکول بیگ میں کرسٹل آئس، منشیات و دیگر چیزیں موجود ہوتی ہیں، منشیات فروش 75 فیصد بچوں کو آئس کا شکار کیے ہوئے ہیں،طالب علموں کی ایک بڑی تعداد کرسٹل کے نشے میں مبتلا ہے، 45 فیصد بچے منشیات بالخصوص آئس کرسٹل کا استعمال کرتے ہیں ٗاب صرف چرس پینے والا نہیں پکڑا جائے گا، مافیا کو بھی قانون کی گرفت میں لائیں گے۔شہریارآفریدی نے کہا کہجبری مشقت لینے والوں سے بھی نمٹنا ہوگا، پولیس اورتمام اداروں کو نوجوانوں کو اپنے ساتھ ملانا ہوگا، وزیراعظم کے حکم پر پولیس نے سخت ترین کارروائی جاری رکھی ہوئی ہے۔ پاکستان کے مستقبل کیلئے اقدامات کررہے ہیں، بچے اور بچیاں مل کرپاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کریں گے۔ وزیر مملکت نے کہاکہ موجودہ دور حکومت میں کوئی بھی شخص قانون کو ہاتھ میں نہیں لے سکتا ٗنئے پاکستان میں قانون سب کیلئے برابر ہے۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا