کھرمنگ(تحریر نیوز نیٹ ورک) ڈپٹی کمشنر کھرمنگ علی عباس نے آج موضع غاسنگ کا سرکاری دورہ کیا۔ اس موقع پر اُنہوں نے غاسنگ کی تعمیر و ترقی کے حوالے سے تفصیلی گفتگو اورغاسنگ گرلز ہائی اسکول کے ہینڈنگ ٹیکنگ کے حوالے سے اسکول کی تفصیلی معائنہ کیا اور بہت جلد پی سی فور اپرول بھیجنے کا گرین سگنل بھی دے دیا ۔ اس موقع پر نوجوانوں کی طرف سےغاسنگ نالہ روڈ کی طرف توجہ مبذول کرانے پر اُنہوں نے بہت جلد نالہ سڑک کی مرمت اور توسیع کے حوالے سے اقدامات اُٹھانے کا وعدہ کیا۔ اس کے غاسنگ واکھہ پُل کی تعمیر اور دریا کنارے بند لگانے کے حوالے سے تفصیلی جائزہ لیا اور اس حوالے سے پرپوزل رکھنے کا وعدہ کیا۔
تفصیلات کے مطابق اُنکا اصل دورہ غاسنگ میں سرکاری پارک بنانے کیلئے عوام کو اعتماد میں لینا تھا کیونکہ دریائے سندھ سے متصل غاسنگ کامیدانی علاقہ جہاں ہزاروں کی تعدا میں پھلدار اور غیر پھلدار درختیں اور عوامی زرعی زمینیں ہیں جسے خالصہ سرکار کا نام دیکر بغیر کسی معاوضے کے سرکاری تحویل میں لینا چاہتا ہے۔ عمائدین غاسنگ نے ڈپٹی کمشنر کو اس میدانی علاقے کا دورہ بھی کرایا اور اُنکا کہنا تھا کہ پارک کی تعمیر کیلئے زمین چاہئے لیکن صرف درختوں کا معاوضہ دیا جائے گا تو اُنہوں نے حامی بھر لی۔
اس حوالے سے غاسنگ کے عوام میں شدید خدشات پایا جاتا ہے اور عوام پہلے ہی اس فیصلے کو مُسترد کرچُکے ہیں ،موقع پر ہی کئی افراد نے اس اقدام کی مخالفت کی اور بتایا کہ یہ وسیع علاقہچند افرادکی ملکیت نہیں بلکہ پاکستان، گلگت بلتستان اور دنیا بھر میں مقیم یہاں کے پشتی باشندوںکی ملکیت ہے۔ ایسے میں چند افراد کو کس یہ اختیار دیا کہ وہ عوامی املاک اپنے مفاد کیلئے سرکار کی جولی میں ڈالنے کی حمایت کریں۔ اہل علاقہ کا کہنا ہے یہ زمیں سرکار کے قبضے میں جانے کے بعد غاسنگ میں زمین کتنا باقی رہے اور اور ہزاروں درختوں کی کٹائی معمولی بات نہیں اس سے ماحولیاتی آلودگی پیدا ہوسکتا ہے۔ عوامی حلقوں کہنا ایک طرف تحریک انصاف کی حکومت پاکستان بھر میں درخت لگانے کا مہم چلارہے ہیں دوسری طرف ضلع کھرمنگ میں زبردستی چند افراد کی من مانی سے درختوں کی قتل عام کی تیاریاں کیا جارہا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کو پارک بنانے کا شوق ہے تو کسی ویران بنجر میدان کو آباد کرکے پارک بنائیں نہ عوامی زمینوں پر قبضہ کرکے۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا